امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ جلد ختم ہونے کے امکان کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 88 سینٹ کمی ہوئی جس کے بعد یہ 110.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 67 سینٹ سستا ہو کر 103.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے جس کے بعد مارکیٹ میں ممکنہ معاہدے کی امید پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آئی۔
توانائی مارکیٹ کے ماہر ایمریل جمیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ممکنہ سفارتی پیش رفت کے باعث مارکیٹ میں دباؤ کم ہوا ہے اور اسی وجہ سے قیمتوں میں کمی آئی۔
انہوں نے تاہم خبردار کیا کہ اگر معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تب بھی تیل کی سپلائی فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آئے گی، اس لیے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان برقرار رہے گا۔
اس سے قبل بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق جغرافیائی سیاسی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی عالمی توانائی مارکیٹ پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔