رضاکاروں کیساتھ ہتک آمیز سلوک کی ویڈیو؛ عالمی رہنماؤں کی مذمت؛ نیتن یاہو بھی ناراض

اسرائیلی وزیر نے امدادی رضاکاروں کیساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کی


ویب ڈیسک May 20, 2026
اسرائیلی وزیر نے صمود فوٹیلا کے رضاکاروں کیساتھ حراست میں غیر انسانی سلوک کیا

اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر غزہ امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے صمود فلوٹیلا کے زیرِ حراست رضاکاروں کی ہتک آمیز ویڈیوز جاری ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ویڈیو اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے جاری کی تھی جس میں امدادی رضاکاروں کو ہتھکڑیوں میں جکڑے اور سرنگوں انداز میں زمین پر بیٹھے دکھایا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیر نے اس موقع پر ہتک آمیز سلوک کیا، نفرت آمیز جملے کہے، اسرائیل پرچم لہرایا اور وزیراعظم نیتن یاہو سے ان رضاکاروں کو طویل عرصے تک جیل میں قید رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس ہتک آمیز ویڈیو نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی وزیر کے امددی رضاکاروں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کو انسانی وقار کے منافی قرار دیا۔

خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس معاملے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف کی یہ حرکت ملکی وقار اور قوانین کے منافی ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ان ویڈیوز نے اسرائیل کی سفارتی پوزیشن کو نقصان پہنچایا اور یہ مناظر عالمی سطح پر اسرائیل کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی قوم سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔ آپ کے عمل نے ریاست کی ساکھ متاثر کی ہے۔

اٹلی نے رضاکاروں کے ساتھ رویے کو انسانی وقار کی توہین قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم نے بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں کو روکنے کو ناقابل قبول قرار دیا جبکہ اسپین اور انڈونیشیا نے فوری رہائی اور رضاکاروں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

ترکیہ نے اسرائیلی کارروائی کو سمندری ڈاکہ زنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اسے اسرائیل کے اخلاقی زوال اور سفاکیت سے تعبیر کیا۔

اسرائیل میں عرب اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عدالہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام جان بوجھ کر رضاکاروں کی تضحیک کر رہے ہیں۔

تنظیم کے وکلا نے اشدود بندرگاہ پر زیرِ حراست کارکنوں سے ملاقات کے بعد فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔