سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر چیئرمین کے پی ٹی کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے چیئرمین کے پی ٹی شاہد احمد کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
کیس کی پیروی کے لیے کے پی ٹی کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس حسن اکبر نے ریمارکس دیے کہ کے پی ٹی کا وکیل کہاں ہیں؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ کے پی ٹی کا وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ جسٹس حسن اکبر نے ریمارکس دیے کہ کے پی ٹی کے وکیل طویل عرصے سے کسی کیس میں پیش نہیں ہوتے۔
درخواست گزاروں کے وکیل اسد اللہ بلوچ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کے پی ٹی میں کارگو مین، لفٹ آپریٹر اور دیگر پوسٹوں پر ملازمین 2009 سے کام کر رہے ہیں۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے 2021 میں درخواست گزاروں کو مستقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ پرانے ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے کے پی ٹی نے نئی بھرتیوں کے لیے اشتہار جاری کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کے پی ٹی میں نئی بھرتیوں کو روک دیا تھا، اس کے باوجود درخواست گزاروں کو مستقل نہیں کیا جارہا۔