نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن کے حکام کی مبینہ ناتجربہ کاری یا فرائض کی انجام دہی کے دوران مبینہ غفلت و لاپروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن عملے کی جانب سے سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو کو روکے جانے کی مزید شکایات سامنے آئی ہیں۔
2مختلف پروازوں پر مختلف اوقات میں دو مسافروں کوایف آئی اے امیگریشن کے عملے نے نہ صرف آف لوڈ کیا بلکہ وجہ پوچھنے پر تضحیک بھی کرتے رہے۔
مسافر منتیں ترلے کرکے بتاتے رہے کہ کئی ممالک میں جا چکے ہیں، پاسپورٹس پر ویزے و ٹریول ہسڑی موجود ہے لیکن کاؤنٹر عملے کے کانوں پر بھی جوں تک نہ رینگی، ایک مسافر شہزاد گوندل نے ایئرپورٹ پر کھڑے ہوکر ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔
مسافر نے کہا کہ اسلام آباد سے کیپ ٹاؤن ساؤتھ افریقہ جانے کا کارآمد ویزہ موجود ہے 20 سالوں میں متعدد ممالک کے وزٹ کیے۔
ساڑے پانچ لاکھ روپے کا ٹکٹ ہوٹل کی بکنگ موجود ہے اور 15 سو ڈالر شو کرانے کے لیے رقم موجود ہے لیکن مجھے ایف آئی اے امیگریشن حکام اف لوڈ کرنے کی وجہ نہیں بتارہے یہ کہتے رہے۔
ساؤتھ افریقہ نے پابندی عائد کررکھی ہے پاکستانی نئے فریش ویزے پر سفر نہیں کرسکتا ۔مسافر کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سفر نہیں کرسکتا تو ساؤتھ افریقہ نے مجھے ویزہ کیونکر لگا کر دیا مجھ سے ڈالروں میں ویزہ فیس کیوں لی مجھے ڈیپورٹ کرنا ہے تو ساؤتھ افریقہ کرے میرے ملک کی ایف آئی اے امیگریشن کیوں ایسا کررہی ہے۔
20 سال سے مختلف ممالک جارہا ہوں اجتک کسی جگہ کوئی ایشو نہیں ہوا ہر سفری دستاویز موجود ہے تمام قانونی دستاویزات و ویزہ موجود کم از کم ہمارے اپنے ادارے تو ہم پاکستانیوں سے یہ سلوک روا نہ رکھیں۔
مسافر کا کہنا تھا کہ کیا ہمارا اس ملک کا شہری ہونا جرم ہے، وزیر داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے نوٹس لیکر انصاف فراہم کریں۔
مسافر نے مزید کہا کہ ائیرپورٹ پر طویل انتظار کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر آئی جس سے مل کر بات کرنا چاہی تو دفتر میں بیٹھ کر ملنے سے انکار کردیا، مجھے میرے سوالوں کا جواب دیا جائے۔
حالیہ دنوں میں ہی ابرار نامی میٹل کا کاروبار کرنے والے مسافر کی بھی مبینہ طور آف لوڈ کیے جانے کی شکایت سامنے آئی ہے، لاہور ایئرپورٹ سے محض اس لیے آف کردیا گیا کہ فون پر کسی ایجنٹ کی ٹک ٹاک ویڈیو اسکرول ہوئی تھی۔
مسافر کا کہنا تھا کہ حکام کو بتاتا رہا کہ فون چیک کرلیں اگر کسی ایجنٹ سے کوئی رابطہ یا فون نمبر بھی نکل آئے تو قصور وار قرار دے دیں لیکن ایک نہ سنی گی۔
مسافرکا کہنا تھا کہ وہاں سے اسلام آباد آیا اور ایف آئی اے آفس سے سفری دستاویزات کی تصدیق کرانے کے بعد اسلام آباد سے سفر کرنا چاہا تو یہاں سے بھی اسکو سفر کی اجازت نہ دی گی۔
الٹا ایف آئی اے امیگریشن کے اہلکار نے اس کا بورڈنگ کارڈ پھاڑ دیا منتیں کرتا رہا کہ بورڈنگ کارڈ واپس کردیں تاکہ ٹکٹ ریفنڈ کر اس کوں لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔
پاکستانی مسافروں کے ڈیپورٹ کیے جانے اور ویڈیو بیانات و شکایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن اسلام آباد ایئرپورٹ حنا منور سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گی اور پیغام بھی چھوڑا لیکن جواب نہیں ملا جس پر ترجمان ایف آئی اے سے رابطہ کیا گیا تو انھون نے چیک کرکے موقف فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن تاحال موقف فراہم نہ کیا۔