آبنائے ہرمز سیکیورٹی مشن میں نیٹو کی شمولیت نہیں چاہتے؛ فرانس

فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک سیکیورٹی مشن قائم کیا ہے


ویب ڈیسک May 21, 2026
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مشن میں نیٹو کو شامل نہیں کریں گے

فرانس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی مشن میں نیٹو کے کردار کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں نیٹو کی شمولیت مناسب نہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مشن کے حوالے سے فرانس کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ صرف شمالی بحرِ اوقیانوس کے خطے سے متعلق ہے اس لیے نیٹو کا دائرۂ کار آبنائے ہرمز یا مشرق وسطیٰ کے تنازعات تک نہیں پھیلایا جانا چاہیے۔

فرانسیسی ترجمان نے کہا کہ نیٹو کا بنیادی مقصد شمالی اوقیانوسی خطے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک الگ جغرافیائی اور سیاسی مسئلہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس حساس خطے میں کسی بھی سیکیورٹی یا بحری مشن کے لیے مختلف سفارتی اور بین الاقوامی فریم ورک زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں اس لیے نیٹو کو شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

خیال رہے کہ فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک سیکیورٹی مشن قائم کیا ہے جس میں دیگر ممالک کی افواج بھی شامل ہوں گی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے لیکن اسے ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے بند کر رکھا ہے۔

اس آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی ترسیل میں شدید کمی واقع ہوئی ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔