اسلام آباد:
پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی پر غور شروع کردیا، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے فوری عملدرآمد کے لیے اہم قرارداد پیش کردی۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے لیے قرارداد پارلیمنٹیرنز کے سامنے رکھ دی، اکثر پارلیمنٹیرنز نے قرارداد کی حمایت کی ، بانی چئیرمین عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کو مرکزی ترجیح قرار دے دیا گیا، قرارداد میں بانی چئیرمین کی صحت، سکیورٹی اور ذاتی معالج تک رسائی کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمان، عدالتوں اور عوامی فورمز پر بھرپور آواز اٹھانے کے لیے بھی قرارداد میں شق موجود ہے، قرارداد میں مہنگائی، بے روزگاری اور انسانی حقوق کے مسائل اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔
فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف قانونی و آئینی اقدامات پر بھی مشورہ دیا گیا۔ پارلیمانی کارکردگی کا ماہانہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ میڈیا ٹاکس، پریس کانفرنسز اور عوامی رابطہ مہم مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔
فلور اسٹریٹیجی، واک آؤٹس اور ووٹنگ پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اراکین کے لیے پارٹی ڈسپلن پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔ قرارداد کے مطابق پارٹی پالیسی سے انحراف پر کارروائی کی جائے گی، قرارداد کی منظوری کے بعد فوری نافذ العمل ہونے کا اعلان کیا جائے گا۔
اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چھ گھنٹے سے زائد وقت تک کے لیے منعقد ہوا۔ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے دیا۔
پارلیمانی پارٹی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔
پارلیمانی پارٹی میں قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا مکمل اختیار دیتے ہیں، محمود خان اچکزئی جو فیصلہ کریں گے پارلیمانی پارٹی کو قبول ہوگا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بھوک اور افلاس کی حالات پر ہم نے اجلاس میں بات کی، پارلیمنٹیرنز نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تحریک چلائیں گے، پر امن رہیں گے، کسی کو گالی نہیں دے گے، ملک میں آئین کے جو پرخچے اڑائے گئے ہیں ہمیں دکھ ہوتا ہے، وہ پارٹیاں جن کو کہا جا رہا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لئے کام کر رہی ہیں ان کے پر کاٹے گئے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے آئین کا دفاع کرنا ہے، اس سلسلے میں تفصیلی بات ہوئی۔