سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی اور عبرتناک شکست پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور شعیب اختر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کرکٹ سے دلچسپی ختم ہوگئی ہے بس صرف اپنی نوکری کے لیے کام کر رہاہوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کھلاڑی اس معیار کی کارکردگی دکھائیں گے تو نتائج بہتر ہونا مشکل ہے۔
انہوں نے قومی ٹیم کی قیادت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شان مسعود سمیت کوئی بھی موجودہ کھلاڑی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لیے موزوں نظر نہیں آتا۔
سابق فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ اگر وائٹ بال کرکٹ کی قیادت کے لیے کسی کو موقع دینا تھا تو فخر زمان کو کپتان بنایا جانا چاہیے تھا اور انہیں نہ کپتانی سے ہٹایا جاتا اور نہ اوپننگ پوزیشن سے بلکہ مستقل موقع دیا جاتا تو نتائج بہتر ہو سکتے تھے۔
شعیب اختر کے مطابق شاہین آفریدی کو ون ڈے کے بجائے ٹی20 فارمیٹ کی کپتانی سونپی جانی چاہیے تھی تاکہ ٹیم میں بہتر توازن پیدا ہو سکتا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کیا۔ اس سے قبل بھی بنگلہ دیش نے پاکستان کو ہوم سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی اور قیادت پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔