امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی ثالثی وفد آج ایران کا دورہ کرے گا اور مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پُرامید انداز میں کہا کہ جنگ بندی مسودے پر بات چیت کے لیے پاکستانی وفد آج ایران جا رہا ہے۔
مارکو روبیو نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ حالیہ مذاکرات سے کچھ اچھے اشارے مل رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ بات چیت میں محدود پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
تاہم انھوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ میں ضرورت سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے پاکستان کے ثالثی کے کردار میں بھی تیزی آئی ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی 24 گھنٹوں میں دو بار ایران کا دورہ کرچکے ہیں۔ جہاں ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کئی ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان پیغام رسانی، کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستانی قیادت کے ممکنہ دورۂ ایران کی قیاس آرائیاں بھی جاری تھیں جنھیں اب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان نے مزید تقویت دی ہے۔
قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کرچکے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہ رہے ہیں۔
ایرانی قیادت بھی پاکستان کی معترف رہی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف عظیم لوگ ہیں۔