کراچی، گلستان جوہر میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، ایک نوجوان جاں بحق، خاتون سمیت دو افراد زخمی

ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کر دی، پولیس



کراچی:

 شہر قائد میں گلستان جوہر میں دو گروپوں میں اندھا دھند فرئرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور خاتون سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے ، واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ ہے مقتول اور ملزمان ایک ہی علاقے کے رہائشی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر کے علاقے بلاک 9 پہلوان گوٹھ روٹ نمبر B-3 بس اسٹاپ مرکزی حسینی امام بارگاہ کے عقب میں نالے کے قریب فائرنگ ایک نوجوان جاں بحق اور خاتون سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔ 

جاں بحق و زخمی ہونے والوں کو الخدمت ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ 

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 18 سالہ شاہ زیب ولد سعید خان کے نام سے کی گئی ، زخمیوں میں 18 سالہ نور صادق ولد دین محمد اور 60 سالہ حضرت بی بی زوجہ قمرگل شامل ہیں۔ 

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ، پولیس نے جائے وقوعہ پر فارنزک کی ٹیم کو طلب کر کے شواہد اکھٹے کیے۔ 

مقتول کے چچا اور دیگر محلے داروں نے بتایا کہ مقتول شاہ زیب 2 بہنوں اور 4 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ، کچھ عرٖصہ قبل تک وہ نجی کورئیر کمپنی میں رائیڈر کا کام کرتا تھا تاہم بیماری کے باعث کام چھوڑ دیا تھا۔ 

زخمی ہونے والا نور صادق مقتول کا چچا زاد بھائی ہے جبکہ زخمی خاتون مقتول کی پڑوسن ہے۔

نور محمد نے بتایا کہ واقعے کے وقت ان کا مخالف گروپ سے قریب ہی واقعے مارکیٹ میں جھگڑا ہوا جہاں ان کے دیگر ساتھیوں اور مخالف گروپ کے درمیانی دو طرفہ اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ 

فائرنگ کی اطلاع کرنے وہ گھر آیا تھا تو دیکھا کہ شاہ زیب ، نور صادق اور دیگر محلے کے نوجوان قربانی کے جانور ( گائے ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

ابھی وہ وہاں پہنچا ہی تھا کہ مخالف گروپ کے شان عرف شانو اور حیدر سمیت 7 سے 8 مسلحہ افراد وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے شاہ زیب موقع پر ہی جاں بحق جبکہ دیگر زخمی ہوگئے۔ 

انہوں نے بتایا کہ جب وہ مقتول اور زخمیوں کو ایمبولینس میں لا رہے تھے تو ملزمان نے ایمبولینس پر بھی مشین گن کا برسٹ مارا جس سے گولیاں ایمبولینس کو لگیں ، تاہم اس میں موجود لوگ محفوظ رہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے سب علاقے کے لڑکے ہیں اور وہ سب کو چہرے سے جانتے ہیں۔ 

پولیس نے زخمیوں کے بیان قلمبند کیے جبکہ مقتول کے چچا نور محمد کا بیان قلمبند کر لیا ، ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کر دی۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ ہے مقتول کی تدفین کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرانے کا کہا گیا ہے پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہے ۔