ایران پر حملے کیلیے فضائی حدود مانگنے کا کوئی امریکی مطالبہ نہیں ہوا، پاکستان کی دوٹوک تردید

متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کے الزامات بے بنیاد ہیں، ترجمان دفتر خارجہ


خالد محمود May 22, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

دفتر خارجہ کے ترجمان  نے دوٹوک تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے فضائی حدود مانگنے کا کوئی امریکی مطالبہ نہیں ہوا ہے۔

صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت کی کہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود مانگنے کے کسی مطالبہ سے لاعلم ہیں، پاکستان سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے تمام قانونی طریقہ کار بروئے کار لائے جائیں گے۔ انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن کا ایوارڈ فیصلہ بھارت کے مغربی دریاوں پر آبی کنٹرول کی حدود کو واضح کرتا ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے سے یک طرفہ طور پر نکلنے کی کوئی شق نہیں ہے۔    رن آف ریوور کو بھارتی مفروضات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن کے ایوارڈ کو اطمینان بخش دیکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی چین کا دورہ کریں گے۔ جہاں ان کی اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کے الزامات بےبنیاد ہیں، ہم ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی جلاوطنی سے متعلق اعداد و شمار مبالغہ آمیز ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں پاکستانی تارکین وطن کی مجموعی تعداد دیکھ کر صورتحال بہتر سمجھی جا سکتی ہے۔  3 ہزار پاکستانیوں کی جلا وطنی مختلف تناظر میں ہے۔ ہمارے اور پارلیمان کے اعداد و شمار میں فرق نہیں ہے۔ بھارت میں پاکستانی پنکھے کی دریافت کے الزامات پاکستانی کبوتر کی طرح دقیانوسی ہیں۔