پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جیالے سیاسی یتموں کی الزام تراشی اور سازشوں کا جواب نہ دیں میں خود ہر سازش کو ناکام بناؤں گا۔
ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو نے جمعہ کو شاہراہ بھٹو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا ایک پہلو عوام کی خدمت ہے، کراچی کے منصوبوں کے افتتاح پر زیادہ خوشی اس لیے ہوتی ہے کہ میں نے اسی شہر میں آنکھ کھولی۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ 2008 سے لیکر آج تک ریکارڈ پیپلز پارٹی نے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں،شہر میں ترقیاتی کام صرف پیپلزپارٹی کے دور میں ہوئے ہیں، کراچی میں 1947سے2008تک جو کام ہوا اس کو بھی گنوادیں۔
چیئرمین پی پی نے اپنے خطاب میں شہید بھٹو کے دور حکومت سے لیکر اب تک کراچی میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اٹھارویں ترمیم سے پہلے اور بعد کے کراچی کے این آئی سی وی ڈی کو دیکھیں، ہم نے اس ادارے کا جال اب پورے صوبے تک پھیلایا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کومفت اورمعیاری علاج پیپلزپارٹی کی وجہ سے ملتاہے، پیپلزپارٹی کی وجہ سے پورے ملک سے لوگ کراچی آکر بسنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت تھرکول منصوبہ مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے عوام کی معاشی مشکلات کا احساس ہے ، سراِئیل امریکہ کی ایران سے جنگ کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے، عالمی صورت حال کا معاشی بوجھ غریب عوام اٹھارہے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ امن کی کوششیں جلد کامیاب ہوں تاکہ عوام کے مسائل میں کمی آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپنے محدود وسائل میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کریں۔کوشش ہوگی کہ لوگوں کو روزگار بھی ملے۔
انہوں نے جنگ بندی سے متعلق وزیر اعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز بہت محنت کررہے ہیں، بلاول بھٹو زرادری نے کہا کہ شاہراہ بھٹو منصو بے کو اقوام متحدہ کے فورم پر عالمی پذیرائی ملی ہے۔ ہم نے : ثابت کردیاہے کہ کام صرف پیپلزپارٹی کرسکتی ہے۔ ہم کراچی کو عالمی معاشی مرکز بنائیں گے، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر دنیا کا مقابلہ کرکے دکھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دبئی نے انفرا اسٹریکچر میں سرمایہ کاری کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم سندھ انٹرنیشنل فناشل سینٹر کھول کر دکھائیں گے اور ہمارا صوبے باقی صوبوں اور دنیا سے مقابلہ کرکے دکھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنا پورٹ انفراسٹریکچر کو درست کرنا ہے۔ بلاول بھٹو نے امید ظاہر کی کہ شاید دنیا میں پہلی پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ میں کیٹی بندر پورٹ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا ڈیفنس سیکیورٹی زون مقامی اور بین الاقوامی طلب کو پورا کرے گا، پاکستانی دفاعی مصنوعات کی پوری دنیا میں مانگ ہے ، بھارت کو عبرت ناک شکست کے بعد پاکستانی دفاعی مصنوعات کی طلب مزید بڑھی ہے۔
بلاول نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ کراچی میں ڈیفینس سیکیورٹی پروڈکشن زون قائم کریں۔ انہوں نے کہا ہم اس شہر میں رہنے والے مسائل حل کرکے دکھائیں گے۔ ہم نے جماعت اسلامی کے ٹاﺅن چیئرمینوں کو بھی مالی وسائل مہیا کئے ہیں۔
انہوں نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر کہا کہ جو الیکشن نہیں لڑے اس میں میرا قصور نہیں ہے اگر وہ الیکشن لڑتےتوان کو بھی وسائل دیتے، وفاق میں بلدیاتی نظام نہیں، کوئی نہیں کہتا کہ لاہور کو آزاد کرو۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنی جمہوریت سندھ میں وہ کسی اور صوبے میں نہیں،جتنی جمہوریت کراچی میں ہے وہ کہیں اور نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جوگالیوں اور جھوٹ کو بھی برداشت کرتی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیالاہور میں کوئی اس طرح کی پریس کانفرنس ہوسکتی ہے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ تاحیات وفاقی وزیر ہوتے ہیں۔
دریں اثنا چیف منسٹرہاﺅس سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو نو مکمل شدہ 39 کلومیٹر طویل شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے کا افتتاح کیا اور ساتھ ہی قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک اس کی اسٹریٹجک توسیع کا سنگِ بنیاد رکھا۔
انہوں نے اس منصوبے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جو کراچی کی شہری نقل و حرکت، معاشی رابطوں اور ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر کو بدل کر رکھ دے گا۔
سندھ حکومت کے اس فلیگ شپ انفراسٹرکچر پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب ایم-9 موٹروے کے قریب کاٹھور انٹرچینج پر منعقد ہوئی جہاں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ باضابطہ طور پر اس تیز رفتار راہداری کو ٹریفک کے لیے کھولا۔
تقریب سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ شاہراہِ بھٹو پہنچے جہاں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کے افتتاحی سفر کے دوران خود ایکسپریس وے پر گاڑی چلائی اور ٹول ٹیکس بھی ادا کیا۔
نو افتتاح شدہ شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے جام صادق برج سے کاٹھوڑ برج تک تقریباً 39 کلومیٹر پر محیط ہے اور اسے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حد کے ساتھ چھ لین والے کنٹرولڈ-ایکسیس کوریڈور کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں چھ انٹرچینج، دو اہم ٹول پلازہ، پانچ ویہہ اسٹیشن (وزن کرنے کے مراکز) اور ایک انڈرپاس شامل ہیں، اور یہ 54.814 ارب روپے کی کل لاگت سے مکمل ہوا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کی تکمیل پاکستان پیپلز پارٹی کے جدید انفراسٹرکچر، عوامی بہبود اور طویل مدتی شہری ترقی کے عزم کی عکاس ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، اور اس کا مستقبل جدید رابطوں، موثر ٹرانسپورٹ سسٹمز اور پائیدار انفراسٹرکچر پر منحصر ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کھوکھلے نعروں پر یقین نہیں رکھتی - ہم ایسے منصوبے دینے پر یقین رکھتے ہیں جو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو مرکزی کراچی اور ایم-9 موٹروے کے درمیان سفر کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرے گی جبکہ موجودہ سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا یہ ایکسپریس وے محض ایک سڑک نہیں ہے؛ یہ ایک نیا معاشی کوریڈور ہے جو تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک توسیعی منصوبہ شہر کے صنعتی علاقوں، پورٹ کے انفراسٹرکچر اور قومی شاہراہوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کراچی پورٹ پاکستان کی تجارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور یہ توسیع کارگو کی نقل و حرکت اور مسافروں دونوں کے لیے ایک بلاواسطہ، موثر اور جدید راستہ فراہم کرے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے شاہراہِ بھٹو کو حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک قرار دیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے کراچی کے عوام سے جدید انفراسٹرکچر کا وعدہ کیا تھا، اور آج ہم اس عہد کو پورا کر رہے ہیں۔ شاہراہِ بھٹو نقل و حرکت کو زبردست حد تک بہتر بنائے گی، ایندھن کی کھپت کو کم کرے گی، سفر کا وقت بچائے گی اور شہریوں کے لیے ایک محفوظ اور تیز تر ٹرانسپورٹ کوریڈور فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ معاشی چیلنجز اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باوجود یہ ایکسپریس وے مکمل کی گئی ہے، جو کراچی کے سڑکوں کے نیٹ ورک کو جدید بنانے کے لیے سندھ حکومت کے پختہ عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت کراچی میں 1.7 ٹریلین (شمار) روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ان میگا پروجیکٹس پر عملدرآمد کے دوران کوئی بھی شہری بے گھر نہ ہو۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ نو شروع ہونے والا کراچی پورٹ ٹو قیوم آباد کوریڈور کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو مزید یکجا کرے گا اور بندرگاہ سے منسلک تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔ قیوم آباد سے کراچی پورٹ: یہ توسیعی منصوبہ، جو جام صادق برج سے کراچی پورٹ کے ایسٹ وارف اور ایس اے پی (SAP) ٹرمینل تک تقریباً 16.5 کلومیٹر پر محیط ہے، اس میں اضافی اسپر لنکس، انٹرچینجز اور ٹولنگ انفراسٹرکچر کے ساتھ ایک چار لین کا کوریڈور شامل ہوگا جس کی تخمینہ لاگت 64.20 ارب روپے ہے۔
اس سے قبل وزیر بلدیات ناصر شاہ نے تقریب کو بتایا کہ یہ توسیعی کوریڈور کراچی پورٹ سے آنے اور جانے والی کارگو اور تجارتی ٹریفک کے لیے براہِ راست رابطہ فراہم کرے گا، جس سے شہر کی موجودہ سڑکوں پر رش کم ہوگا اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
ناصر شاہ نے مزید کہا کہ اس کوریڈور سے رہائشی اور تجارتی شریانوں پر بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت کم ہونے، سڑکوں کی حفاظت بہتر ہونے اور کراچی پورٹ استعمال کرنے والے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے ہموار لاجسٹکس آپریشنز میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید کے مطابق شاہراہِ بھٹو کا آغاز مئی 2022 میں کیا گیا تھا اور اس کی تخمینہ شدہ بینچ مارک ٹریفک گنجائش روزانہ 23,800 سے زائد گاڑیوں کی ہے جبکہ ایک اوسط دن میں قیوم آباد سے قائد آباد کے حصے کو پہلے ہی تقریباً 17,000 گاڑیاں استعمال کر رہی ہیں۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو محض ایک سڑک نہیں ہے، بلکہ یہ ملک، صوبے اور شہر کراچی کے عوام کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے عزم کا مظہر ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے بیک وقت متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں جن کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، رابطوں کو بہتر بنانا اور پورے شہر میں شہری انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ہے۔
معروف کاروباری شخصیت اور صنعت کار عارف حبیب نے شاہراہِ بھٹو منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے معاشی رابطوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے لحاظ سے گیم چینجر قرار دیا۔
انہوں نے خاص طور پر قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک اس کی توسیع کا خیرمقدم کیا اور اسے بندرگاہ اور اندرونِ ملک راستوں کے درمیان ایک اہم کڑی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سڑک، شہر کے اندرونی ٹریفک کو متاثر کیے بغیر، بندرگاہ کے ٹریفک کو اندرونِ ملک لے جائے گی اور وہاں سے واپس لائے گی، جس سے وقت کی بچت ہوگی، نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور بالآخر تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
کراچی پورٹ توسیعی کوریڈور تکمیل کے بعد روزانہ 10,000 سے زائد گاڑیوں کو سنبھال سکے گا۔ صوبائی وزرا، منتخب نمائندوں، سرکاری حکام، انجینئرز، ٹھیکیداروں اور معروف کاروباری شخصیات نے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی۔