پاکستان میں جہاز توڑنے کی صنعت کے فروغ کیلیے نئی قانون سازی منظور

جہازوں میں موجود خطرناک مواد کی نگرانی،محفوظ طریقے سے شپ بریکنگ اور ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنایاجائیگا


ظفر بھٹہ May 23, 2026

اسلام آباد:

پاکستان نے جہاز توڑنے کی صنعت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلیے نئی بحری قانون سازی منظور کر لی۔

سینیٹ نے ’’انوائرمنٹلی ساؤنڈ مینجمنٹ آف انوینٹری آف ہیزرڈس میٹریل آن شپس بل 2026‘‘ کی منظوری دیدی جس کے بعد ملک میں ہانگ کانگ کنونشن کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کہاکہ نئی قانون سازی کے تحت جہازوں میں موجود خطرناک مواد کی نگرانی،محفوظ طریقے سے شپ بریکنگ اور ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنایاجائیگا، قانون کے تحت پاکستان آنیوالے ہرجہازکامعائنہ، سروے اور سرٹیفکیشن لازمی ہوگا،جبکہ خلاف ورزی کرنیوالے جہازوں کوضبط، تحویل میں لینے یا پاکستانی پانیوں سے نکالنے جیسے اقدامات کیے جاسکیں گے۔

وفاقی وزیرکے مطابق روس یوکرین جنگ کے بعد تقریباً 400 جہاز پاکستانی شپ یارڈز منتقل کیے جانے کا امکان ظاہرکیاگیا تھا،جبکہ حالیہ امریکا، اسرائیل اور ایران کشیدگی کے باعث بھی مزیدجہاز پاکستان آنے کی توقع ہے، حکومت کراچی شپ یارڈ اور پاکستان اسٹیل ملزکو ملانے کیلیے ’’اسٹیل کاریڈور‘‘ قائم کرنے پر بھی غورکر رہی ہے، تاکہ شپ بریکنگ سے حاصل ہونیوالا لوہا پاکستان اسٹیل ملز میں استعمال کیاجاسکے اور اسٹیل ملزکودوبارہ فعال بنایا جاسکے۔

جنید انور چوہدری نے بتایاکہ پاکستان دنیاکے تین بڑے شپ ری سائیکلنگ ممالک میں شامل ہے، جہاں عالمی سطح پر تقریباً ایک تہائی شپ ری سائیکلنگ سرگرمیاں پاکستان میں انجام دی جاتی ہیں، گڈانی شپ بریکنگ یارڈقومی معیشت اور روزگار کیلیے اہم حیثیت رکھتاہے، اس لیے اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، لیبراور حفاظتی معیارکے مطابق بناناضروری ہے۔

پاکستان ہانگ کانگ کنونشن میں شمولیت اختیارکرنیوالا 23 واں ملک بن گیاہے،جبکہ بلوچستان اسمبلی پہلے ہی ’’بلوچستان سیف اینڈ انوائرمنٹلی ساؤنڈری سائیکلنگ آف شپس ایکٹ 2025‘‘ منظورکرچکی ہے۔

وزیر بحری امور کاکہنا تھاکہ نئی قانون سازی سے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوگی،ماحول دوست صنعتی ترقی کو فروغ ملے گااور ملک کو سرکلر اکانومی کی جانب منتقل ہونے میں مددملے گی۔