چینی سائنس دانوں نے پیس میکر کا متبادل تیار کرلیا

یہ ایجاد دل کی بیماریوں کی تحقیق اور نئی ادویات کی جانچ میں انقلاب لا سکتی ہے


ویب ڈیسک May 24, 2026

چین کے محققین نے لیبارٹری میں دنیا کا پہلا ’سائنو ایٹریل نوڈ‘کامیابی سے تیار کر لیا ہے۔

یہ سائنو ایٹریل نوڈ دل کے اندر موجود ایک نہایت چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جو دل کے قدرتی پیس میکر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسی کی وجہ سے دل مسلسل اور باقاعدہ دھڑکتا رہتا ہے۔

یہ نوڈ دل کے دائیں ایٹریئم میں واقع ہوتا ہے اور برقی سگنلز پیدا کرتا ہے۔ یہ سگنلز اعصابی نظام کے کنٹرول میں رہتے ہیں اور دل کے دونوں حصوں (اوپری اور نچلے چیمبرز) کو ترتیب سے سکڑنے اور پھیلنے کا حکم دیتے ہیں، جس سے جسم میں خون مؤثر طریقے سے گردش کرتا ہے۔

اگر یہ قدرتی پیس میکر خراب ہو جائے تو دل کی دھڑکن بہت سست ہو سکتی ہے یا مکمل طور پر رک بھی سکتی ہے، جس سے جان جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

محققین نے انسانی پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز استعمال کرتے ہوئے ایک تھری ڈی لیبارٹری ماڈل تیار کیا ہے جو سائنو ایٹریل نوڈ کی طرح کام کرتا ہے اور خود بخود دھڑک سکتا ہے۔

یہ ایجاد دل کی بیماریوں کی تحقیق اور نئی ادویات کی جانچ میں انقلاب لا سکتی ہے۔ مستقبل میں یہ ’بائیولوجیکل پیس میکر‘ کے طور پر دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے علاج میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ یہ کامیابی دل کی سائنس اور علاج کے میدان میں ایک بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے۔