امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری حساس مذاکرات اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو ہنگامی مشاورت کے لیے وائٹ ہاؤس طلب کر لیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس بھی غیر متوقع طور پر واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے اور ان کا قافلہ تیزی سے وائٹ ہاؤس کی جانب جاتے دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، خطے میں جنگ بندی، اسرائیل کی سیکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی سمیت اہم امور پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی اعلیٰ قومی سلامتی ٹیم، مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق مشیر جیرڈ کشنر اور دیگر حکام کے ساتھ آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق صدر ٹرمپ آج متعدد علاقائی رہنماؤں کے ساتھ اہم کانفرنس کال بھی کریں گے جن میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن اور مصر شامل ہیں۔
کانفرنس کال میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے، جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
معاہدے کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، بعض ایرانی اثاثوں کی بحالی، جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات جاری رکھنے جیسے نکات شامل ہیں۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے متعلق امریکی مطالبات پر پیش رفت ہوگی۔
ادھر ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ خطے میں جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔
تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام کی تفصیلات پر بات چیت اس کی ترجیح نہیں۔ خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے باعث عالمی توجہ اب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر مرکوز ہو گئی۔