وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کے اہم انفرااسٹرکچر منصوبوں کے اپنے مسلسل پانچویں اتوار کے دورے کے دوران کے بی آر ٹی ریڈ لائن مکسڈ ٹریفک کوریڈور، زیرِ تعمیر عظیم پورہ فلائی اوور اور حال ہی میں افتتاح کی گئی شاہراہِ بھٹو کا معائنہ کیا۔ شاہراہِ بھٹو کے دورے کے بعد انہوں نے کہاکہ ہم 15 جون کو عظیم پورہ فلائی اوور کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے ریڈ لائن منصوبے پر نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عظیم پورہ فلائی اوور کو 15 جون تک ٹریفک کے لیے کھولنے کی ہدایت دی، جبکہ شاہراہِ بھٹو پر عوامی تحفظ اور ٹریفک نظم و ضبط یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے پولیس پیٹرولنگ، موٹرسائیکلوں کے داخلے پر پابندی اور ای چالان سسٹم فوری فعال کرنے کے احکامات جاری کیے۔
سینئر وزیر شرجیل میمن اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ مختلف مقامات پر کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمانڈر ایف ڈبلیو او کراچی بریگیڈیئر عدنان، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ، سی ای او واٹر بورڈ احمد صدیقی اور دیگر متعلقہ افسران و انجینئرز موجود تھے۔
عظیم پورہ فلائی اوور کے مقام پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے منصوبے پر جاری کام اور مجموعی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میئر کراچی کو ہدایت دی کہ فلائی اوور کو 100 دن کے اندر مکمل کرکے 15 جون تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔
دورے کے دوران میئر کراچی نے زیرِ تعمیر فلائی اوور پر وزیراعلیٰ سندھ کو گاڑی میں بٹھا کر آن سائٹ معائنہ کروایا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم 15 جون کو عظیم پورہ فلائی اوور کا افتتاح کریں گے اور اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ تعمیراتی معیار برقرار رکھتے ہوئے کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور شہریوں کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔ عظیم پورہ فلائی اوور سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی اور عظیم پورہ سے ملیر ہالٹ۔کورنگی روڈ کوریڈور تک رابطہ بہتر ہوگا، جبکہ شاہراہِ فیصل اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو کا بھی دورہ کیا اور نئی افتتاح شدہ شاہراہ پر سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شاہ فیصل ٹول پلازہ پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی سربراہی میں اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ اجلاس کیا، جہاں انہیں سیکیورٹی اقدامات اور جاری آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہدایت دی کہ شاہراہِ بھٹو پر 24 گھنٹے مؤثر پولیس پیٹرولنگ یقینی بنائی جائے، ہر انٹرچینج پر پولیس چیک پوسٹ قائم کی جائے اور موٹرسائیکلوں کے داخلے پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
انہوں نے فوری طور پر ای چالان سسٹم فعال کرنے، 100 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد اور سیٹ بیلٹ قوانین پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ون وے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ عوامی تحفظ اور ٹریفک نظم و ضبط ہماری اولین ترجیح ہے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے کے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا مسلسل پانچویں اتوار بھی دورہ کیا اور مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور نکاسی آب کے کاموں پر ہونے والی نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل نگرانی کے باعث زمینی سطح پر واضح نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنا معائنہ داؤد یونیورسٹی گلوب راؤنڈ اباؤٹ سے شروع کیا اور صفوراں چورنگی تک سفر کرتے ہوئے جاری تعمیراتی سرگرمیوں، ٹریفک مینجمنٹ، یوٹیلٹی منتقلی اور مختلف حصوں میں جاری ڈرینیج انفرااسٹرکچر کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن اور سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو نمائش تا موسمیات تک کے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے لاٹ-2 پر ہونے والی پیش رفت سے تفصیلی آگاہ کیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے بتایا کہ مکسڈ ٹریفک لینز، ڈیلینیٹر والز، ڈرینیج سسٹمز اور یوٹیلٹی منتقلی پر بیک وقت کام جاری ہے۔ اب تک 1,950 میٹر مکسڈ ٹریفک لین اسفالٹ بائنڈر، 2,320 میٹر سب گریڈ اور ایگریگیٹ بیس، 1,024 میٹر 600 ملی میٹر پائپ ڈرین اور ڈیلینیٹر و باکس ڈرین کے اہم کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ نمائش سے جیل چورنگی، جیل چورنگی سے حسن اسکوائر، حسن اسکوائر سے نیپا اور آگے موسمیات تک مختلف حصوں میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، اگرچہ بعض مقامات پر یوٹیلٹی مسائل اور کے فور توسیع منصوبے کے باعث چیلنجز درپیش ہیں۔
سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ نے بتایا کہ مجموعی طور پر پائپ ڈرین کے کام میں 21 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ یوٹیلٹی منتقلی اور بیک فلنگ کا کام بھی مختلف مقامات پر جاری ہے، خصوصاً جہاں ایس ایس جی سی، کے ڈبلیو ایس سی اور سیوریج لائنیں کوریڈور سے گزرتی ہیں۔ حسن اسکوائر تا نیپا سیکشن میں
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کے فور توسیع منصوبے کے باعث بعض سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں، تاہم جہاں رسائی ممکن تھی وہاں ڈیلینیٹر والز اور ڈرینیج کا کام جاری رکھا گیا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سروس روڈز پر کام تیاری کے مراحل میں ہے اور ڈرینیج و یوٹیلٹی منتقلی مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے لیے سب سے اہم شہری ٹرانسپورٹ منصوبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور ٹھیکیداروں کو ہدایت دی کہ کام کی رفتار برقرار رکھی جائے اور منصوبہ بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر اتوار اس منصوبے کی خود نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ ہم کراچی کے شہریوں کو جدید، مؤثر اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں افرادی قوت اور مشینری میں اضافہ کیا جائے، جبکہ تمام یوٹیلٹی ادارے ٹرانس کراچی اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں تاکہ منتقلی کا کام بلا تاخیر مکمل ہو سکے۔
انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور عوامی سہولت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو اور تمام فعال مقامات پر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والی واضح پیش رفت حکومت کی سنجیدگی اور منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے عزم کا ثبوت ہے۔ بریفنگ کے مطابق ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کا لاٹ-2 نمائش چورنگی تا موسمیات تک 12.85 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں 16 اسٹیشن شامل ہیں، جبکہ لاٹ-1 موسمیات سے ملیر ہالٹ تک 10 کلومیٹر طویل ہے، جس میں 6 اسٹیشن اور 2 ڈپو شامل ہیں۔
ایف ڈبلیو او کے بریگیڈیئر عدنان نے بھی وزیراعلیٰ سندھ کو تعمیراتی حکمت عملی، مشینری کی تعیناتی اور مختلف سیکشنز میں کام تیز کرنے کے اہداف سے متعلق بریفنگ دی۔