خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے شہد کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مانگ بڑھ گئی ہے۔ خلیجی ممالک سمیت کئی ممالک میں شہد کی ایکسپورٹ عروج پر پہنچ گئی ہے۔
مختلف اقسام کی شہد پشاور سے بیرون ممالک بھجوائی جانے لگی ہے۔ شہد کو قدرت کا ایک قیمتی نعمت سمجھا جاتا ہے، یہ نہ صرف ذائقے میں منفرد بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔
شہد صدیوں سے بطور غذا اور دوا استعمال کیا جا رہا ہے، ماہرین کے مطابق شہد میں قدرتی مٹھاس، وٹامنز اور ایسے قدرتی اجزاء شامل ہیں جو انسانی جسم کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف علاقوں گلگت بلتستان اور کشمیر کا شہد اپنے معیار اور ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن خیبر پختونخواہ کی شہد کو بین الاقوامی مارکیٹ میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں شہد پشاور کے علاوہ کرک، ڈی آئی خان، کوہاٹ، سوات اور چترال میں بنائی جاتی ہے، شہد کئی اقسام ہیں جن میں بیری، پلائی، شفتل، مالٹا، برسین، سرسوں، لاچی، سپیرکے، بیکڑ، روبینہ، سنزلہ، شامل ہیں، شہد سات سو روپے کلو سے لیکر 10 ہزار روپے کلو تک موجود ہے۔
پشاور کے علاقہ چمکنی میں صوبے کی سب سے بڑی شہد کی مارکیٹ ہے جہاں ہر قسم کا شہد آسانی سے دستیاب ہے۔ پشاور کی شہد مارکیٹ کو بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے، جہاں سے دیگر ممالک کو بھی شہد ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔
عام شہد سے لیکر قیمتی شہد بھی پشاور کی شہد مارکیٹ میں آسانی سے مل جاتی ہے، اس مارکیٹ میں دنیا کا مشہور یمنی شہد بھی مل جاتا ہے جس کی قیمت 10 سے 40 ہزار روپے فی کلو بتائی جاتی ہے۔