لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

وضع کیا گیا نیا طریقہ جرنل جول میں شائع ہونے والی تحقیق میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے


ویب ڈیسک May 25, 2026

الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں تیزی اور ونڈ اور سولر پاور کے لیے بڑے بیٹری سسٹمز کی تعمیر کے باعث لیتھیم کی مانگ آسمان کو چھو رہی ہے۔ مگر لیتھیم تیار کرنا اب بھی ایک سست، مہنگا اور ماحول کے لیے نقصان دہ عمل سمجھا جاتا ہے۔

اب کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے محققین نے لیتھیم نکالنے کی ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو پیداوار کو تیز، آلودگی کو کم، اور ایسے ذخائر تک رسائی ممکن بنا سکتی ہے جہاں موجودہ ٹیکنالوجی ناکام رہتی ہے۔

جرنل جول میں شائع ہونے والی تحقیق میں وضع کیا گیا نیا طریقہ ’سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن‘ یعنی S3E (ایس تھری ای) تفصیل بیان کیا گیا ہے۔

یہ جدید طریقہ ایک خاص درجہ حرارت پر ردِعمل دینے والے سالوینٹ کا استعمال کرتا ہے، جو زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کر لیتا ہے حتیٰ کہ ایسی صورت میں بھی جب لیتھیم کی مقدار بہت کم ہو یا دوسرے معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی ہو، جنہیں الگ کرنا عام طور پر انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق S3E نے تجربات کے دوران حیران کن کارکردگی دکھائی۔ اس نظام نے سوڈیم کے مقابلے میں 10 گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ رفتار سے لیتھیم کو الگ کیا۔

اس کے علاوہ یہ طریقہ میگنیشیم کو بھی مؤثر انداز میں ہٹا دیتا ہے، جو لیتھیم والے نمکین ذخائر میں پایا جانے والا ایک عام مگر مشکل آلودہ عنصر ہے۔ اس کے لیے ایک خاص کیمیائی عمل استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے غیر ضروری مادّے کو الگ کر دیا جاتا ہے۔