ایران میں 3 ماہ بعد انٹرنیٹ کی مرحلہ وار بحالی شروع ہوگئی

فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران میں انٹرنیٹ سہولیات مکمل طور پر بند تھیں


ویب ڈیسک May 26, 2026
ایرانی صدر نے ملک میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم دیدیا

ایرانی صدر نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا حکم جاری کر دیا جس کے بعد ایران میں 87 دن سے جاری تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق وزارتِ مواصلات کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر نے انٹرنیٹ بحالی کے فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔

صدر مسعود پزیشکیان کے حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مرحلہ وار انٹرنیٹ سروسز بحال کی جائیں گی تاہم حکام کی جانب سے مکمل بحالی کے ٹائم فریم کے بارے میں ابھی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

خیال رہے کہ ایران میں گزشتہ 87 دنوں سے سخت انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ تھا۔ یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی تھی جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور حملوں کے دوران ملک میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے تھے۔

اس دوران انٹرنیٹ بندش نے نہ صرف عوامی رابطوں کو متاثر کیا بلکہ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل سروسز پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ معاشی سرگرمیوں، بینکنگ سسٹمز اور کاروباری لین دین بھی شدید متاثر ہوا۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخری روز ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای پوری عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے جس کے بعد سے تاحال کشیدگی برقرار ہے گو مذاکراتی عمل بھی جاری ہے۔