نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماوٴں نے ملک میں قومی حکومت کی تشکیل اور آئینی اصلاحات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سیاسی استحکام، آزادانہ انتخابات اور قومی مکالمہ کے ذریعے بننے والی قومی حکومت ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرفواد چوہدری نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا بنیادی مقصد ملک کی سیاست میں ٹھہراوٴ، برداشت اور بہتری لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں شدید تقسیم پیدا ہوچکی ہے، سیاسی قوتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام اور فارم 45 کے ذریعے آنیوالے انتخابات کیلئے قومی حکومت بنائی جائے۔
انہوں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان بدحال ہے، اس سال گندم کی پیداوار میں بیس فیصد کمی آئی ہے ، مہنگے داموں گندم درآمد کرنا پڑے گی۔ فیلڈ مارشل کو تہران سے لے کر امریکہ تک سراہا جا رہا ہے تاہم اندرونی استحکام کے لیے سیاسی ماحول کی بہتری ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بعض رہنماوٴں نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی سازش میں کردار ادا کیام کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل ہی انتخابی نتائج کا معلوم ہے، اس انتخابی نظام کی درستگی ضروری ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت نے صوبے تقسیم کیے اور “ادھر ہم، ادھر تم” کی سیاست شروع کر دی اس سے وفاقی سیاسی سوچ کو نقصان پہنچایا۔
محمد علی درانی نے کہا کہ ملک کے حالات نیا رخ اختیار کر رہے ہیں، حکمرانوں کو لانے والے بھی ناخوش دکھائی دیتے ہیں، موجودہ نظام کو “فارم 47” سے واپس “فارم 45” کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا ایک ہاتھ خزانے میں اور دوسرا عوام کی جیب پر ہے۔تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی حکومت کا فارورڈ بلاک گروپ بن چکی ہے، ملک میں سنجیدہ اپوزیشن کی ضرورت ہے اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اس کمی کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔