ملک بھر میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے لاکھوں افراد جانوروں کی قربانی میں مصروف ہیں


ویب ڈیسک May 27, 2026

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ سنت ابراہیمی کی یاد میں لاکھوں مسلمان نماز عید ادا کرنے کے بعد جانوروں کی قربانی میں مصروف ہیں۔

صبح کا آغاز ملک بھر تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات سے ہوا جو مساجد، عید گاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں منعقد کیے گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں عید کی نماز کے اوقات صبح ساڑھے نو بجے تک مقرر ہیں۔

اسلام آباد میں عید الاضحی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ شاہ فیصل مسجد سمیت شہر کی مختلف مساجد، عید گاہوں اور امام بارگاہوں میں نمازِ عید کے روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔

نماز کے اختتام پر افواج پاکستان، قومی سلامتی، اور ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

لاہور میں دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی گئی جامعہ میں بڑی اجتماعی قربانی کا انتظام کی گیا ہے۔

لاہور کی مختلف مساجد میں سب سے پہلے سوا 5 بجے نماز عید کی ادائیگی کی گئی اور علما و خطبا کی جانب سے عید الاضحے کے فلسفے اور قربانی کی اہمیت کے حوالے سے درس دئیے گئے جبکہ شہر میں صبح 7 بجے تک نماز عید الاضحے کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہے گی۔

آئی جی پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں اسپیشل پولیس، کیو آر ایف ٹیمیں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہیں جبکہ لاہور میں نماز عید کے اجتماعات کی سکیورٹی پر 11 ہزار سے زائد اہلکار و افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

لاہور شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے 3 ہزار سے زائد ٹریفک وارڈنز اور افسران ڈیوٹی پر موجود ہیں جبکہ ڈولفن و پیرو سکواڈ کے1500 سے زائد افسران و جوان موثر پٹرولنگ اور فوری رسپانس یقینی بنا رہے ہیں اور نمازیوں کے تحفظ کیلئے بڑی مساجد اور عید گاہوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے گئے ہیں۔

دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں بھی عید کی نماز ادا کی گئی اور پہلے روز بڑی تعداد میں جانوروں کی قربانی کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے دن بھی جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔

راولپنڈی ضلع بھر میں 604 مساجد ، 72 امام بارگاہوں اور 62 کھلے مقامات پر نماز عید کے اجتماعات.منعقد ہوئے، جبکہ ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کے آفیسرز اور جوان نماز عید کے اجتماعات کو سیکورٹی کی فراہمی پر معمور تھے۔

سرائے مغل میں جامعہ محمودیہ ہنجراۓ کلاں میں عیدالاضحیٰ کا مرکزی اجتماع صبح 7 بجے ادا کیا جائے گا جبکہ شہر اور گردونواح کی چھوٹی بڑی مساجد اور عید اجتماعات میں نماز عید کی ادائیگی کا وقت صبح 7 بج کر 30 منٹ سے 9 بجے تک مقرر ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خاں عیدالاضحیٰ کی نماز اپنے آبائی گاؤں گلزار جاگیر میں ادا کریں گے۔

پشاور میں مرکزی عید گاہ چارسدہ روڈ سمیت عید الاضحیٰ کی نماز کے متعدد چھوٹے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔

ملک بھر کی طرح شہر قائد میں بھی عید گاہوں، مساجد، امام بارگاہوں، کھلے میدانوں اور پارکوں میں عیدالاضحیٰ کی نماز کے بڑے اجتماعات ہوئے اس موقع پر علمائے کرام نے خطبات میں حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی روح اور فلسفے پر روشنی ڈالی اور امت مسلمہ کے اتحاد، وطن عزیز کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

گرومندر پر واقع سبیل والی مسجد میں عید الاضحی کی نماز ادا کر دی گئی، نماز عید کی امامت مولانا منیب نے کی۔

نمازعید کی ادائیگی کے بعد عالم اسلام کی سربلندی، ملکی ترقی و خوشحالی، فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں کے لیےدعائیں کی گئیں، نماز کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارکباد دی۔

شہر قائد میں سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایات پر شہر قائد سمیت سندھ بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مساجد، عید گاہوں اور امام بارگاہوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد و گردونواح میں عید الضحی مذہبی جوش و جزبے سے منائی جا رہی ہے شہر بھر میں نماز عید کے ایک ہزار سے زائد چھوٹے و بڑے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔

نماز عید کے بعد شہریوں نے قبرستانوں میں جا کر اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی جس کے بعد گائیں، بچھڑوں اور بکروں کی قربانی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

نماز عید کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہیں۔

ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں تین روز تک لاکھوں افراد جانوروں کی قربانی کریں گے جو سنت ابراہیمی کی یاد اور اللہ کی رضا کی علامت ہے۔

قربانی کے بعد لوگ قربانی کے بعد گوشت غرباء و مساکین میں تقسیم کر رہے ہیں تاکہ عید کی خوشیاں سب کے ساتھ بانٹی جا سکیں۔

صفائی و ستھرائی کے حوالے سے میونسپل اداروں، ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز نے خصوصی پلان ترتیب دیا ہے۔ قربانی کی آلائشیں اور کچرا بروقت ٹھکانے لگانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ صفائی کے نظام کو مؤثر رکھا جا سکے۔