جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی

تحقیق کے مطابق کلینیکل ٹرائل میں یہ نئی تھراپی حیران کن حد تک مؤثر ثابت ہوئی


ویب ڈیسک May 28, 2026

ماہرین نے ایک نئی سیل تھراپی آزمائی گئی ہے جسے جگر کے خطرناک مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے حقیقی امید قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق کلینیکل ٹرائل میں یہ نئی تھراپی حیران کن حد تک مؤثر ثابت ہوئی۔

ٹرائل میں جن مریضوں کو یہ سیل تھراپی دی گئی اُن میں چار سال بعد موت یا لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت کا خطرہ عام علاج لینے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر میں خود کو دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے لیکن جب مرض حد سے بڑھ جائے تو شدید زخم اور داغ (جسے کررہوسِس) جگر کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچا دیتے ہیں جو آخرکار لیور فیل ہونے کا سبب بنتا ہے۔

اب یہ نئی سیل تھراپی اُن مریضوں کے لیے بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے جن کے لیے اب تک واحد علاج صرف لیور ٹرانسپلانٹ تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر آئندہ تحقیقات بھی کامیاب رہیں تو یہ علاج مستقبل میں لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچا سکتا ہے۔