ماہرین نے ایک نئی سیل تھراپی آزمائی گئی ہے جسے جگر کے خطرناک مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے حقیقی امید قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق کلینیکل ٹرائل میں یہ نئی تھراپی حیران کن حد تک مؤثر ثابت ہوئی۔
ٹرائل میں جن مریضوں کو یہ سیل تھراپی دی گئی اُن میں چار سال بعد موت یا لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت کا خطرہ عام علاج لینے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر میں خود کو دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے لیکن جب مرض حد سے بڑھ جائے تو شدید زخم اور داغ (جسے کررہوسِس) جگر کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچا دیتے ہیں جو آخرکار لیور فیل ہونے کا سبب بنتا ہے۔
اب یہ نئی سیل تھراپی اُن مریضوں کے لیے بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے جن کے لیے اب تک واحد علاج صرف لیور ٹرانسپلانٹ تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر آئندہ تحقیقات بھی کامیاب رہیں تو یہ علاج مستقبل میں لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچا سکتا ہے۔