ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کے تمام شعبہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کو قوم میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن میدان میں شکست کی تلافی اور ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 مئی 1980 کو معرض وجود میں آنے والی ایرانی پارلیمنٹ کے نئے سیشن کے افتتاح پر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے تحریری بیان میں کہا کہ جنگ مسلط کرنے، معاشی دباؤ، پروپیگنڈے اور محاصرے کے بعد دشمن کے اندھے منصوبے کا مقصد فوجی میدان میں ہونے والی شکست کی تلافی اورقوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے اختلاف اور سماجی انتشار پھیلانا ہے۔
عیدالاضحیٰ اور پارلیمان کے نئے سیشن کے آغاز پر مبارک دیتے ہوئے انہوں نے ایرانی عوام، اراکین اسمبلی اور خصوصاً ملک کی سربلندی کی راہ میں بہترین کوششوں پر باقر قالیباف کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے حالیہ حملوں سے متعلق کہا کہ ایرانی عوام نے وفاداری، امید اور ثابت قدمی پر باطنی کردار اور عمل دوستوں اور دشمنوں دونوں پر ثابت کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد اور غیرمتزلزل یگانگت تقویٰ کے اجزا میں شامل ہیں جو اسلامی ایران کے پرچم تلے اس قوم کو عطا کی گئی ہے اور یہ بدترین دشمن کے خلاف فتح کے انتہائی اہم عناصر میں میں سے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن ملکی بقا کو نقصان پہنچانے کے لیے قوم میں تقسیم اورسماجی انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، جن کے دل اسلام، انقلاب اور ایران کی آزادی کے لیے دھڑکتے ہیں وہ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں، قوم کے تمام رہنما خاص طور پر دانش ور طبقہ اور سیاسی حلقے بشمول اراکین اسمبلی قوم میں وحدت اور اتحاد برقرارر کھنے کے لیے پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اختلاف کو تنازع اور تقسیم میں تبدیل نہ کیا جائے اور زبان اورعمل دونوں طریقوں سے قومی اتحاد کو مـضبوط رکھا جائے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ دور کے بدترین جارح کے خلاف ثابت قدم رہنے اور تاریخ کو درست راہ پر گامزن کرنے والی بے مثال قوم کی نمائندگی کرنا انتہائی بھاری ذمہ داری ہے۔