ٹرمپ کا ناکہ بندی کھولنے اور معاہدہ طے ہوجانے کا اعلان؛ ایران کا ردعمل بھی آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کر رہے ہیں


ویب ڈیسک May 29, 2026
امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کھول دینے پر اتفاق ہوا ہے (اے آئی، تصوراتی تصویر)

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھولنے، افزودہ یورینیئم ختم کرنے اور بعض دیگر شرائط ماننے پر آمادہ ہونے کے بیان کو مسترد کردیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق باخبر ذرائع نے ٹرمپ کے اس بیان کو سچ اور جھوٹ کا مرکب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر دراصل جعلی فتح کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے نام ظاہر نہ کرنے والی ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ممکنہ معاہدے کے اہم نکات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

ذرائع نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور معاہدے کے مسودے میں ایسی کئی باتیں شامل ہی نہیں ہیں جن کا دعویٰ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کیا ہے۔

ایرانی ذرائع نے خاص طور پر ٹرمپ کے اُس دعوے کو بنیادی طور پر بے بنیاد قرار دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کا افزودہ جوہری مواد تباہ کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے جوہری پروگرام یا افزودہ یورینیم کو مکمل ختم کرنے پر کوئی اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی نکتہ مجوزہ معاہدے کا حصہ ہے۔

اسی طرح ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس یا ٹول کے مکمل طور پر کھولنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ مجوزہ معاہدے میں اس نوعیت کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔

فارس نیوز کے مطابق ایرانی ذرائع نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے جان بوجھ کر اُن اہم نکات کا ذکر نہیں کیا جو ایران کے حق میں ہیں۔ ان میں امریکا کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے کی تجویز اور لبنان میں مکمل جنگ بندی کے قیام سے متعلق شقیں شامل ہیں۔

ادھر ایران کے ایک سینئر ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک سیاسی سمجھ بوجھ طے پا گئی ہے تاہم ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اپنے مشیروں سے میٹنگ کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔