بہت ساری باتیں جو سامنے آتی ہیں، نظر آتی ہیں یا دکھائی جاتی ہیں۔ درحقیقت اس کے اندر کوئی اور ہی سیکرٹ مشن چھپا ہوتا ہے، کوئی خفیہ پیغام، چال یا سازش جس کے لیے ایک بڑا اسکرپٹ ڈھیر سارے کرداروں کے ساتھ ترتیب دیا جاتا ہے۔
روز ڈھیر ساری کہانیاں پڑھتے، سنوارتے، بناتے، نکھارتے تو اب یہی لگتا ہے بلکہ یقین بھی ہے کہ واقعی بقول فرنگی شاعر، ڈرامہ نگار شیکسپیئر کے ’’دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اس کے کردار ہیں۔‘‘
دنیا کے اس اسٹیج کی کہانی بنانے والا تو ایک مالک حقیقی ہی ہے لیکن مادی طور پر بہت سے ہنرمند اس عمل میں جڑے ہیں کہ اس طرح کی کہانیاں ڈسپلے کرکے اپنا مقام بنائیں، طاقت ظاہر کریں یا منافقت جس کو ذرا مدھم کرکے پیچھے رکھ کر کام کریں۔
بہت عجیب سی کہانیاں دنیا میں بکھری ہیں لیکن ان کے طاقتور میڈیم اور کردار جس سفاکیت سے اپنی ہدایت کاری کے جوہر دکھا رہے ہیں، تکلیف دہ امر ہے، عوام چیخ رہے ہیں، مظلوم دھاڑیں مار کر روتے اپنوں کے خون دیکھ کر بلک رہے ہیں، لیکن کہانی کار من مانی میں جتا ہے۔
کبھی سوچیں تو ذرا کہ اس بڑے دن جب عدالت سجے گی تو سب کچھ عیاں ہو جائے گا، پھر کیسے کیسے چہرے بے نقاب ہوں گے۔ اس دن کا انتظار کسی کسی کو ہے باقی سب تو دلوں میں پتھر لیے گھوم رہے ہیں۔
افغانستان میں اس وقت غذائی قلت کی کیفیت دگرگوں ہے، لوگ مسائل کا شکار ہیں۔ اس وقت اندازاً ایک کروڑ سے زائد افراد اس زمرے میں آتے ہیں، جب کہ چالیس لاکھ بچے بھی غذا کی کمی کا شکار امداد کے لیے منتظر ہیں۔ ایک بڑا حصہ جب غذائی قلت کا شکار ہو تو ایسے ملک میں معاشی اور معاشرتی مسائل کس نہج پر ہوں گے۔
لیکن ایک انتہائی کم آمدنی والے اس آفت زدہ ملک کے مسائل اور وجوہات کے باوجود خود وہاں کے حکمران اور سرگرداں حضرات کے علاوہ دیگر بھی اس جانب سے منہ موڑے اپنے کرداروں کا پیٹ بھرنے میں جتے ہیں کہ غریب عوام کو کون پوچھے؟ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے تین افراد بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
ادھر افغان سفیر نے خبردار کیا ہے کہ افغان قونصل خانوں پر طالبان رجیم کے کنٹرول کی کوششیں سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ برطانیہ کے ایک جریدے کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں تعینات افغان سفیر نے ایکس پر ایک پیغام دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جرمنی سمیت یورپ میں افغان قونصل خانوں پر طالبان کا کنٹرول دراصل ایک خفیہ چال ہے۔
طالبان رجیم کے نمایندوں کی یورپی دارالحکومتوں میں تعیناتی انتہاپسند گروہ کو آپریشنل بیس فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ سفارت کاری کی آڑ میں طالبان رجیم کو نہ روکا گیا تو یورپ مستقبل میں انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔
اس رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کو خبردار کیا گیا ہے لیکن اصل فلم یا کہانی کچھ اور ہی ہے یعنی جو نظر آ رہا ہے وہ کچھ اور ہی ہے۔
’’آپ یقین کریں یہ جو طالبان طالبان کا شور ہے ۔ ان میں سے کتنے ہی طالبان کو دہشت گردی کرنے پر پاکستانی فورسز نے پکڑا ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ اسلام کا اتنا واویلا کرنے والوں کو کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے ہمارے یہاں بہت سے دیہاتیوں کو بھی شعور نہیں ہوتا ،جانوروں کی مانند زندگی گزار دیتے ہیں، اس میں غلط بات تو یہ ہے کہ انھیں آگہی ہی نہیں لیکن جو لوگ اسلام کے نام پر جھنڈے اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے نام پر لڑ رہے ہیں۔بس آپس میں لڑ رہے ہیں اور اسی کو درست سمجھ رہے ہیں۔
صرف یہی نہیں بہت سے بلکہ کیا کہوں کہ مسلمان مرد کی جو پہچان ہے جو شعائر اسلام میں سے ہے، وہی نہیں ہوئی تو بھائی وہ کیسے مسلمان۔ سوچنے کی بات ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم طالبان ہیں، ہم اپنے اللہ کے لیے لڑ رہے ہیں تو نہ تو آپ کو کلمہ آتا ہے اور نہ آپ میں شرعی عمل جو ضروری ہے، اس سے محروم ہیں پھر آپ کیسے مسلمان ہو؟
آپ اپنے مسلمان بھائیوں سے (پاکستانی افواج) لڑ رہے ہو، تو تم بتاؤ ، کیا تمہارا عمل درست اور اسلام کے مطابق ہے؟ ہرگز نہیں تم بھٹک گئے ہو اور گمراہی کے راستے پر چل نکلے ہو۔ آپ اس احسان کو بھول گئے جب آپ کو پاکستانی قوم نے جب آپ تکلیف میں تھے اپنایا، بستیاں آباد کیں۔ آپ کی نسلیں یہاں جوان ہوئیں پیدا ہوئیں پھر بھی آپ یہاں سے کما کما کر دشمن (بھارت) کے گن گا رہے ہو؟‘‘
کسی ایک کے فیصلے کا خمیازہ پوری قوم کیوں اٹھائے، سرحد کے اس پار بھی اور اس پار بھی، مظلوم تو عوام ہیں جو پٹ رہے ہیں، سسک رہے ہیں اور کہانی کار اپنے کرداروں کی خرید و فروخت میں لگے ہیں۔ اس خرید و فروخت میں جس کہانی کا سیزن اوپر جائے گا وہ مقبول ہوگی اور اسلام ایک دہشت گرد مذہب ہے کا سیزن ابھارنے کی کوششوں میں مصروف لوگ لگے ہوئے ہیں۔
اس کے لیے انھیں لوگوں سے غرض نہیں کہ پوری ادائیگی کرکے خریدا ہے کام ختم اور کردار کی اب ضرورت نہیں، چاہے مرو یا پکڑے جاؤ، بس بھرتی چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بوگس فلم کی دھند میں اصل اور کھرے لوگ کہیں کھو گئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں انتہائی بلند مالیت کی ایسی معدنیات موجود ہیں جو نایاب ہیں ، اسے معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باعث معدنیات کا خزانہ بھی کہا جاتا ہے۔
آج کل کی جدید ٹیکنالوجی میں الیکٹرک گاڑیاں اور دیگر اسمارٹ آلات کی بیٹریاں لیتھیم جیسے قیمتی معدنی ذخیرے کی مرہون منت ہیں اور افغانستان کے بدخشاں، غزنی، ہرات ، نیمروز اور صوبہ نورستان میں یہ قیمتی ذخائر بہ کثرت موجود ہیں۔
یہی نہیں تانبا، سونا، لوہا، کرومائٹ، کوئلہ قیمتی پتھر اور بہت قیمتی خزانوں کا غریب ملک افغانستان ایک بدقسمت ملک بھی ہے جو عالمی تاجروں کی سوداگری کے بیچ اسلام کے نام پر کھیل رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سنگلاخ پہاڑوں سے گھرے اس ملک میں رب العزت نے اتنے قیمتی خزانے چھپا کر رکھے تو کیوں؟
ایک بڑے سونے کے ذخیرے کے مالک تو ہم بھی ہی، پر کیوں؟ سوال بہت اور جواب جانتے بھی ہیں پر ہم کیا کر سکتے ہیں، لیکن مایوس نہیں ہیں کہ ہمیں ان فلاپ کہانی کاروں کے نرغے سے نکلنا ہی ہوگا کہ ہمارے مالک کو مایوسی پسند نہیں۔