خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 52 ارکان کے ساتھ اپنی عدد برتری ثابت کرنے میں کامیاب رہے تاہم سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت 40 ارکان نے اجلاس میں شرکت نہں کی جبکہ اجلاس میں اختلافات کے حوالے سے مرکزی قیادت اور علیمہ بی بی کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مخالفین ارکان اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، اجلاس میں ارکان اسمبلی کی شرکت ان کے منہ پر تھپڑ ہے اور انہوں نے منگل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے کا بھی اعلان کیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 92 ارکان میں سے 52 ارکان شریک ہوئے اور 40 ارکان اجلاس میں شریک نہ ہوسکے جبکہ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں 72 کے قریب ارکان نے شرکت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ چند ارکان اسمبلی ملک سے باہر ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے، اجلاس سے غیر حاضر چند ارکان بیرون ملک ہیں اور چند ذاتی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے جبکہ اجلاس میں متعدد ناراض ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میں اختلاف کی صورت حال کے حوالے سے مرکزی قیادت کو آگاہ کرنے اور علیمہ بی بی کو بھی آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی علیمہ بی بی سے ملاقات کا امکان ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں شریک ارکان سے خطاب میں کہا کہ منفی مہمات کے باوجود اراکین صوبائی اسمبلی کی اجلاس میں بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سب عمران خان کی پارٹی کے جھنڈے تلے سب متحد ہیں، نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی عمران خان کے نظریے سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مخالفین نے بھرپور کوشش کی کہ ہمارے مابین اختلافات پیدا کریں مگر کثیر تعداد میں آپ کی شرکت ان کے منہ پر تھپڑ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا ایجنڈا عمران خان کی صحت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پارلیمنٹیرینز کو اعتماد میں لینا ہے، جعلی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہوئی ہے، عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، ان کی صحت سے متعلق ہمیں اور پوری قوم کو تشویش ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں جعلی حکومت اور ان کے لانے والوں سے مطالبہ کرنا ہے کہ عمران خان کا فیملی کی موجودگی میں ان کی مرضی کے ڈاکٹروں اور اسپتال میں علاج کرایا جائے۔
اگلے مالی سال کے لیے بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ عوام دوست بجٹ ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں میں عمران خان کے وژن کی عکاسی ہوگی، عمران خان کے وژن کے مطابق ہم انسانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، اگلے سال کے بجٹ میں عوامی فلاح کے وہ منصوبے شامل ہوں گے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے صوبے کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، صوبے پر گیس اور گندم بند کی گئی، رواں سال ضم اضلاع کے 12 ارب روپے وفاقی حکومت نے کاٹ لیے ہیں اور صوبے کے 4500 ارب روپے سے زائد وفاق کے ذمہ بقایا ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملا کر جدوجہد کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل و حقوق ہیں، ہمیں ان کے حصول کے لیے مشترکہ آواز اٹھانی ہے۔