سیاست اورعوامی ترجیحات کا تضاد

ہماری سیاست،اقتدار اور حکمران طبقات کا بنیادی مسئلہ عوامی ترجیحات کی سیاست سے دوری کا ہے ۔


سلمان عابد June 02, 2026

ہماری سیاست،اقتدار اور حکمران طبقات کا بنیادی مسئلہ عوامی ترجیحات کی سیاست سے دوری کا ہے ۔اس دوری نے حکمران طبقہ کو عملا عوام سے لاتعلق کردیا ہے یا وہ اس نظام سے نالاں نظر آتے ہیں ۔یہ بات فطری ہے کہ جب لوگ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی ناکامی سے یا ان کو ان حصول میں مشکلات کا سامنا ہو تو وہ کیونکر حکمرانی کے نظام پر اعتماد کریں گے۔

یہ جو حکمران طبقہ اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ عملی طور پر فاصلے پرکھڑے ہیں تو ان کے مسائل کا حل بھی اس نظام کے داخلی محاذ پر یقینی نہیں ہوسکتا۔لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں یا ان کو مجبور کردیا گیا ہے کہ حکومت کی ترجیحات عام آدمی کی ترجیحات سے مختلف ہیں ۔اس لیے ملک میں جو بھی پالیسیاں یا قانون سازی کا عمل ہورہا ہے وہ ایک طاقت ور طبقات کے مفادات کی عکاسی کرتا ہے ۔اس طاقت ور اور کمزور طبقات کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو ہمیں آسانی سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ یہ سوچ اور فکر لوگوں میں جہاں محرومی کی سیاست کو پیدا یا ان میں منفی ردعمل کو سامنے لاتی ہے وہ خود ریاست کے نظام کے لیے کوئی مثبت پہلو نہیں ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے یہ سب کچھ جو پاکستان کے حکمرانی کے نظام سے خرابیوںکی صورت میں جڑا ہوا ہے اور سنجیدہ افراد ان خامیوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں یہ کیسے تبدیل ہوگا۔کیونکہ ہمارا سیاسی ،جمہوری ،پارلیمانی نظام جو مختلف کمزوریوں کے ساتھ موجود ہے اس میں نظام کی بہتری کا علاج کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے ۔کیونکہ جب ریاست کا نظام عام آدمی کے مفادات سے باہر نکل کر بڑے طاقت ور طبقوں کی ترجمانی کرے گا تو پھر اس نظام میں عام آدمی کا استحصال ہونا فطری ہوتا ہے ۔

عوامی ترجیحات کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ ہماری سیاست کے نظام کا کسی بھی سطح پر انتظامی اور قانونی محاذ پر جواب دہ نہ ہونا ہے ۔جب سیاست اور حکمرانی کا نظام اپنے ہی داخلی نظام میں جوابدہ نہیں ہوگا اور اداروں کے مقابلے میں افراد کی حکمرانی یا وہ طاقت ور ہوں گے تو ایسے میں عوامی نمائندگی کو کیسے شفاف بنایا جاسکتا ہے ۔

اسی طرح جب سیاسی جماعتوں کی سطح پر یا ان کی قیادت میں یہ سوچ جڑ پکڑتی ہے کہ یہاں ہمیں جو اقتدار ملتا ہے اس کی بنیاد نہ تو ووٹ ہے اور نہ ہی عوام تو ایسے میں ہماری فہرست میں عوامی ترجیحات کیسے ممکن ہوسکتی ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کا عوام سے لاتعلقی کا پہلو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جو ہماری اجتماعی سیاست اور جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ۔ حکومت کے بقول پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا بوجھ غریب عوام اور موٹر سائیکل والوں پر نہیں پڑا بلکہ مراعات یافتہ طبقہ پر بڑا بوجھ پڑا ہے ۔اس طرح کے بیانات لوگوں میں اور زیادہ سخت ردعمل کو جنم دیتے ہیں ۔

ایک بات تسلیم کرنا ہوگی ہمارا انصاف کا نظام اپنی اہمیت کھوبیٹھا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ جب لوگ عوامی ترجیحات کی بنیاد پر نظام کو چیلنج کرنا یا مزاحمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا عدالتی نظام کمزور لوگوں کے مقابلے میں طاقت ورلوگوں کے حق میں کھڑا ہوجاتا ہے اور یہ وہ عمل ہے جو ملک میں طبقاتی بنیاد پر چلنے والے نظام کو تقویت دیتا ہے۔حکمران طبقات کی معاشرے میں استحصال پر مبنی یہ ہی حکمت عملی ہوتی ہے کہ وہ طاقت یا انصاف کے اداروں کو اپنے تابع کرلیتے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے انصاف کے راستوں کو محدود کیا جاسکے۔اسی بنیاد پر ہمارا یہ نظام لوگوں پر سیاسی اور معاشی بوجھ بن گیا ہے ۔

کچُھ لوگ یہ منطق دیتے ہیں موجودہ سیاسی اقتدار کی بندوبست پر مبنی نظام کی ناکامی کو بنیاد بنا کر ہمیں قومی حکومت کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔اس طبقہ کے بقول موجودہ حالات کی بہتری قومی حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں اور یہ ملک کے معاشی حالات کو بدل سکے گا۔اول پہلے ہی اس ملک میں تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت ہے ماسوائے پی ٹی آئی کے اور اگر ان کو باہر نکال کر قومی حکومت بنتی ہے تو ایسی صورت میں قومی سیاست میں پہلے سے موجود سیاسی ڈیڈ لاک نہیں ٹوٹ سکے گا۔ویسے بھی قومی حکومت کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں مختلف جماعتیں اپنی ناکامی کی ذمے داری کو قبول کرنے کی بجائے دوسروں پر ذمے داری ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔اس طرز کے نظام میں کیسے ملک میں سرمایہ کاری ہوسکے گی، خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سیاسی استحکام اور حالات کی بہتری کے لیے دوسرا راستہ نئے شفاف انتخابات کا ہے اور وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرکے آگے بڑھا جائے۔لیکن ان معاملات میں بھی کوئی بڑی پیش رفت بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی اور معاملات بدستور ڈیڈلاک سے جڑے ہوئے ہیں ۔ایسے میں عوامی مفادات کی سیاست قومی سطح پر عام آدمی کے لیے جہاں متاثر ہورہی ہے وہیں عام آدمی کی مشکلات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔سوال یہ ہے کہ عام آدمی ان حالات میں کہاں جائے کیونکہ نہ تو سیاسی نظام اور نہ ہی سیاسی جماعتیں عوام کے ساتھ کھڑی ہونے کے لیے تیارہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں عوامی سیاست اور مزاحمت کی کمزوری کے عمل نے لوگوں کو اور زیادہ دیوار سے لگادیا ہے۔

ایسے میں لوگ اس نظام کی بہتری میں اصلاحات چاہتے ہیں جو عوامی مفادات کے تابع ہوں اور لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کرسکے۔لیکن یہ سب کچھ آسانی کے ساتھ نہیں ہوگا اور اس کام کے لیے حکومتی سطح پر ایک مضبوط سیاسی اور معاشی کمٹمنٹ درکار ہے جس کا واضح طور پر فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اصل بات حکومتی سطح پر اخراجات کی کمی کا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس طور طریقے سے حکومت کا حکمرانی کا نظام چلایا جارہا ہے وہ معیشت کی بحالی میں بھی عملا بڑی رکاوٹ ہے۔کیونکہ معیشت کی بحالی میں ہمیں اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانی ہوگی اور مجموعی حکمرانی کے نظام میں بنیادی سطح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

معیشت کی بحالی کے دعوے کرنا یا بڑے بڑے جذباتی نعروں کی سیاست اپنی جگہ وہ لوگوں میں وقتی طور پر جذباتی سطح کی کیفیت کو پیدا کرتی ہے لیکن پھر بہت جلد ان میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ معیشت کی بحالی محض جذباتی نعروں کی بنیاد پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات درکار ہیں جو لوگوں میں معیشت کی بحالی کا اعتماد پیدا کرسکے ۔یہ محض معیشت کی بحالی کے اعتماد تک ہی محدود نہیں ہوگا بلکہ لوگوں کا حکومت کے نظام پر بھی اعتماد بحال کرے گا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ امیر طبقات کی معیشت کی بحالی کے بجائے عوامی اور محروم طبقات کی معیشت کی بحالی پر توجہ دیں۔کیونکہ اس وقت بنیادی مسئلہ عام آدمی کی معیشت کی بحالی کے چیلنج سے جڑا ہوا ہے اور یہ ہی مسئلہ ریاست کے لیے نئے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔