سکھر:
سندھ کے مختلف اضلاع میں منگل کی شب آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
کئی شہروں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ درخت گرنے، سولر پلیٹیں اڑنے اور بجلی کی تاریں ٹوٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
نوابشاہ، شاہ پور چاکر اور گرد و نواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ مٹی کا طوفان اور بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور کئی روز سے جاری شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔
شہریوں نے بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کا خیرمقدم کیا تاہم بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
حیدرآباد اور اس کے اطراف میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ آندھی نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا۔ آندھی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی تاہم بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
بیشتر علاقوں میں رات 11 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جبکہ ہیرآباد میں پونے 9 بجے سے بجلی بند ہونے کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار رہے۔
دادو اور اس کے نواحی علاقوں میں مٹی کے شدید طوفان کے بعد ہلکی بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا تاہم تیز ہواؤں کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا اور کئی علاقوں میں سپلائی معطل ہوگئی۔
ادھر مورو میں طوفانی ہواؤں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ مختلف مقامات پر گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ ہوا میں اڑ گئے۔
متعدد مقامات پر درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے جبکہ بجلی کی تاریں گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مختلف حادثات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب شدید آندھی، طوفانی ہواؤں اور بارش کے باعث سیپکو ریجن کا بجلی کا ترسیلی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق ٹرانسمیشن لائنوں، ٹاورز اور بجلی کے پولز کو نقصان پہنچنے سے متعدد 132 کے وی اور 220 کے وی سرکٹس ٹرپ کر گئے جس کے باعث وسیع علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
سیپکو حکام کے مطابق 220 کے وی لوڈرا گرڈ اسٹیشن سے نکلنے والی اہم ٹرانسمیشن لائنیں، جن میں شکارپور، گڑھی یاسین، لاڑکانہ، میڈیجی اور لکھی جانے والی لائنیں شامل ہیں، شدید متاثر ہوئیں۔
اسی طرح ٹھل گرڈ اسٹیشن سے کندھکوٹ اور شہدادپور، میرپور ماتھیلو سے خان پور مہر جبکہ شکارپور سے پارکو جانے والی ٹرانسمیشن لائنیں بھی بند ہوگئیں۔ 220 کے وی روہڑی گرڈ اسٹیشن میں فنی خرابی کے باعث بجلی کی ترسیل کا نظام مزید متاثر ہوا۔
موسمی تباہی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے، جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، رتوڈیرو، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو، ٹھارو شاہ، کنڈیارو، پیر جو گوٹھ، کوٹ ڈیجی، گمبٹ، ڈہرکی، اوباڑو، پنو عاقل، روہڑی اور دیگر درجنوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی مختلف درجات میں معطل یا متاثر رہی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر سیپکو انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ مقامات پر موجود ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور لائنوں کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔
سیپکو ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بجلی کی جلد از جلد بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر معمولی موسمی حالات کے پیش نظر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، بجلی کی مکمل بحالی تک ہنگامی بنیادوں پر کام جاری رہے گا۔