وفاقی محتسب کا ٹیکس چوری اور رجسٹریشن معطلی سے متعلق درخواست سننے سے انکار

ایسے معاملات جو پہلے ہی عدالتوں میں ہوں زیر غور نہیں لاتے، وفاقی ٹیکس محتسب


ویب ڈیسک June 03, 2026

وفاقی ٹیکس محتسب نے سات کروڑ روپے کی مبینہ ٹیکس چوری اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی سے متعلق شکایت متوازی عدالتی کارروائی کے باعث سننے سے انکار کردیا۔ 

وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس چوری اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی سے متعلق شکایت کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ ادارہ نہ تو غیر سنجیدہ شکایات کو زیرِ غور لاتا ہے اور نہ ہی ایسے معاملات کو جن پر پہلے ہی عدالتوں میں کارروائی جاری ہو۔

یہ کیس بنیادی طور پر ٹیکس انتظامیہ کی مبینہ طریقہ کار کی خلاف ورزیوں سے متعلق تھا، تاہم متوازی عدالتی کارروائی کے باعث یہ ایف ٹی او کے دائرہ اختیار سے باہر قرار پایا، یہ شکایت فیڈرل محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 10(1) کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں شکایت کنندہ کے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (ایس ٹی آر این) کی معطلی کو چیلنج کیا گیا۔

موقف اختیار کیا گیا کہ دومئی 2025 کو بغیر پیشگی نوٹس اور بغیر سماعت کا موقع دیے رجسٹریشن معطل کی گئی جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 21، سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول بارہ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کے خلاف ہے۔

مزید کہا گیا کہ قانون کے مطابق ایسی معطلی عارضی ہوتی ہے اور اگر نوے دن کے اندر بلیک لسٹنگ کا حکم جاری نہ کیا جائے تو یہ خود بخود غیر موثر ہو جاتی ہے، شکایت کے مطابق مقررہ مدت گزرنے کے باوجود نہ تو بلیک لسٹنگ آرڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی ایس ٹی آر این بحال کیا گیا جس سے کاروباری سرگرمیوں میں خلل اور مالی نقصان ہوا۔

تاہم ریونیو ڈویژن نے اپنے موقف میں شکایت کنندہ کے ٹیکس گوشواروں پر سنگین تحفظات اٹھائے۔ بتایا گیا کہ برف کے بلاکس بنانے والے کے طور پر رجسٹرڈ ادارے نے بغیر کسی متعلقہ ٹیکس ادائیگی کے 19 ملین روپے سے زائد کی غیر معمولی کیری فارورڈ رقم ظاہر کی، اس تضاد کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 70 ملین روپے سے زائد کی سیلز ٹیکس ذمہ داری سامنے آئی، جبکہ حکام نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ برف جیسے جلد خراب ہونے والے کاروبار میں اتنی بڑی مقدار میں اسٹاک برقرار رکھنا مشکل ہے۔

سماعت کے دوران یہ بات بھی کھلی کہ شکایت کنندہ نے ایف ٹی او سے رجوع کرنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس میں معطل شدہ رجسٹریشن کی بحالی کا ریلیف طلب کیا گیا تھا۔

محتسب نے قرار دیا کہ دونوں فورمز پر ایک ہی نوعیت کا ریلیف طلب کیا جا رہا ہے اس صورتحال کے پیش نظر ایف ٹی او نے قرار دیا کہ معاملہ سب جوڈس ہو چکا ہے لہذا فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 9(2)(a) کے تحت یہ ادارے کے دائرہ اختیار سے باہر ہے جو زیرِ سماعت عدالتی مقدمات میں مداخلت سے روکتا ہے چنانچہ شکایت کو مزید کارروائی کے بغیر بند کر دیا گیا اور کیس ریکارڈ محفوظ کر لیا گیا۔