سپریم کورٹ میں 200 کلو گرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم کی بریت کی اپیل پر سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ کے دلچسپ ریمارکس پر عدالت میں قہقے بلند ہوئے اور عدالت نے درخواست منظور کرلی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 200 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم کی بریت کی اپیل پر سماعت کی اور عدالت نے ملزم رضا خان کو اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ کسی اور ملزم پر درج 200 کلوگرام چرس برآمدگی کے مقدمے میں میرے موکل کو سزا دی گئی۔
ملزم کے وکیل نے بتایا کہ منشیات برآمدگی کے چار ماہ 18 دن بعد مواد فرانزک کے لیے بھیجا گیا، مقدمہ بنایا گیا کہ ملزم ٹرک چلا رہا تھا جس سے منشیات برآمد ہوئیں جبکہ میرے موکل کی تو ایک ٹانگ ہی نہیں تو پھروہ ٹرک کیسے چلائیں گے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایک ٹانگ والے کی تو قربانی بھی نہیں ہوسکتی، جس پر عدالت میں قہمقے بلند ہوئے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ کیا چار ماہ تک چرس مال خانے میں عبادت کر رہی تھی، اس موقع پر خاتون سرکاری وکیل نے مقدمے کی تفتیشی کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔
سرکار وکیل اور جسٹس ہاشم کاکڑ کے درمیان مکالمہ ہوا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایک جج اور دوسرا وکیل کسی کی نہیں سنتے، بولنے سے زیادہ سننا چاہیے اور استفسار کیا کہ اس طرح کے مقدمے میں سزا کس جج نے دی ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج خضدار نے ملزم کو 10 سال سزا سنائی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس کامران ملاخیل نے سزا برقرار رکھی۔