حکومت صومالی قزاقوں کے قبضے میں 10 پاکستانیوں کی واپسی کیلیے کوشاں ہے، دفتر خارجہ

سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کو روکنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ترجمان


ویب ڈیسک June 04, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود 10 پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کے پانی سے متعلق ممکنہ اقدامات کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی دہلی نے پانی روکنے یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے پاس جواب کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی آبی اور غذائی سلامتی کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔ بھارت کی جانب سے چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو سندھ طاس معاہدے، جنیوا آبی کنونشن اور دیگر بین الاقوامی آبی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

میڈیا بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ان منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کو نہ تو باضابطہ طور پر آگاہ کیا اور نہ ہی متعلقہ معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے ابراہم معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ 10 پاکستانی شہری اب بھی صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان صومالی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور یرغمال پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے رہائشی ذیشان کو بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر گرفتار کیا ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن بھارتی حکام سے رابطے میں ہے اور اس شہری کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکا کے دورے سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر اور کویت کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے بھی گفتگو کی۔

ترجمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کی اور متعدد عالمی رہنماؤں، وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مارکو روبیو نے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا اور انہیں خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا۔

ایک سوال پر ترجمان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسحاق ڈار نے مارکو روبیو کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی انٹیلی جنس معلومات شیئر کی تھیں۔  ترجمان نے کہا کہ ایسی خبریں بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعمیری مکالمہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق کے شعبے میں مثبت پیش رفت کر رہا ہے اور اس حوالے سے اپنی رپورٹس متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو باقاعدگی سے جمع کراتا ہے۔

افغانستان سے متعلق یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کے ریمارکس پر ترجمان نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں اور مذاکرات میں افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے مؤقف کو بہتر انداز میں سمجھ رہی ہے۔ا س حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے تحفظات اور موقف کو بھی اجاگر کیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جسے پاکستان مثبت پیش رفت سمجھتا ہے اور مقدس مقامات کے احترام پر زور دیتا ہے۔