پاکستان ٹیلی ویژن کی سابقہ اداکارہ سارہ چوہدری نے طویل عرصے بعد اپنی طلاق اور نجی زندگی سے متعلق کھل کر بات کرتے ہوئے مختلف تصورات اور سوالات پر وضاحت پیش کی ہے۔
سارہ چوہدری حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی اور علیحدگی کے حوالے سے گفتگو کی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ دین کی طرف مکمل رجحان، شوبز سے کنارہ کشی اور شوہر کے لیے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود طلاق کیوں ہوئی؟
اس سوال کے جواب میں سارہ چوہدری نے کہا کہ لوگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ اتنی قربانیاں دینے اور شوبز چھوڑنے کے باوجود انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے اصول اور فیصلے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام میں طلاق کو ناپسندیدہ عمل ضرور سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اسے زندگی سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی کسی کے دیندار ہونے کو اس بات کی ضمانت سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام میں صلح کرانا باعثِ ثواب ہے، لیکن یہ خیال درست نہیں کہ مذہبی انسان کی زندگی میں مسائل یا علیحدگی ممکن ہی نہیں۔ ان کے مطابق بعض فیصلے تقدیر کا حصہ ہوتے ہیں اور میاں بیوی کے درمیان بھی خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتی ہیں۔
سارہ چوہدری نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن جب یہ احساس ہوا کہ اب ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا تو باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اپنے اس فیصلے پر کبھی پچھتاوا ہوا، تو انہوں نے کہا کہ دین کی راہ اختیار کرنے کے بعد ان کے اندر سے پچھتاوے کا احساس ختم ہو چکا ہے، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی ہوتا ہے وہ انسان کی بہتری کے لیے ہوتا ہے، اس لیے ’’کاش ایسا ہو جاتا‘‘ جیسے خیالات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ سارہ چوہدری نے 2002 میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا اور پی ٹی وی کے ڈرامے چوکھٹ سے شہرت حاصل کی۔ ان کے دیگر مقبول ڈراموں میں بہلاوہ، تیرے پہلو میں، تیری اک نظر، دن ڈھلے، چاہت، ملنگی اور تم کہاں ہم کہاں شامل ہیں۔ انہوں نے 2010 میں شوبز کو خیرباد کہہ کر دین کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا، جبکہ ان کی شادی پندرہ سال قبل پختون خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوئی اور وہ پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔