آسٹریلیا کے خلاف تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی 1-2 سے کامیابی کے دوران سب سے زیادہ بحث پچز کے حوالے سے رہی۔
راولپنڈی اور لاہور میں میزبان ٹیم نے اسپن کے لیے سازگار وکٹیں تیار کیں تاکہ نسبتاً کمزور آسٹریلوی ٹیم کے خلاف ہوم ایڈوانٹیج حاصل کیا جا سکے۔
جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے میں کامیابی کے بعد پاکستان نے سیریز اپنے نام کر لی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی وکٹیں 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوں گی کیونکہ یہ ٹورنامنٹ جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا جہاں تیز گیند بازوں کو زیادہ مدد ملنے کا امکان ہے۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے پچ حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر جیت کے لیے موزوں حالات پیدا کرتی ہے۔
ان کے مطابق ورلڈ کپ میں ابھی 15 ماہ باقی ہیں اور قومی ٹیم کے پاس مختلف نوعیت کی وکٹوں پر تیاری کا بھرپور وقت موجود ہے۔
سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مواقع دیے گئے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس نے اپنے ون ڈے کیریئر کا شاندار آغاز کرتے ہوئے ڈیبیو میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
ابرار احمد نے بھی متاثر کن بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب شاداب خان کی ٹیم میں واپسی خاصی توجہ کا مرکز بنی۔ اگرچہ ابتدائی دو میچوں میں وہ بولنگ میں مشکلات کا شکار رہے لیکن بعد ازاں انہوں نے بہتر کارکردگی دکھائی۔
بیٹنگ میں بھی شاداب نے اہم اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا، جس پر شاہین آفریدی نے انہیں سیریز کا بڑا مثبت پہلو قرار دیا۔