ایکشن کمیٹی کا 35 مطالبات تسلیم ہونے کے بعد سڑکوں پر آنا مفاد عامہ کیخلاف ہے، حکومت آزاد کشمیر

حکومت نے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کرلیے جبکہ متعدد نکات پر پیشرفت بھی ہوئی ہے، اعلامیہ


ویب ڈیسک June 05, 2026
(فوٹو ائل)

آزاد جموں وکشمیر حکومت اور سیاسی جماعتوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سیاست پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے اور متعدد نکات پر عملی پیش رفت کے باوجود سڑکوں پر دباوٴ ڈالنا عوامی مفاد کے منافی ہے۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کو آزاد کشمیر اسمبلی سے توثیق حاصل ہے جو عوامی نمائندگی کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔ اسمبلی کے فیصلوں کو سڑک کے دباوٴ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت نے مذاکرات، ریلیف اور عمل درآمد کا راستہ اپنایا، جس کے تحت جاں بحق افراد کے ورثاء کو کروڑوں روپے، زخمیوں کو معاوضہ، گندم پر رعایت، تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ، جائیدادوں پر ٹیکس میں کمی اور نیب قوانین سے ہم آہنگی جیسے اقدامات کیے گئے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ لیکسس یا ٹیکسوں و آمدن کا نظام، مہاجر نشستیں اورسرکاری مراعات کے تین مطالبات آئینی، مالیاتی اور پالیسی نوعیت کے ہیں جو سڑک کی سیاست سے نہیں بلکہ مذاکرات اور قانونی عمل سے حل ہوں گے۔

جے اے اے سی نے لچک کے بجائے ہٹ دہرمی اور محاذ آرائی کو ترجیح دی۔ 9 جون کو انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کو جمہوری عمل کے خلاف قرار دیتے ہوئے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہوگی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بندشوں اور دباوٴ کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی عمل پر اعتماد کریں۔