ایران پر امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کو مہرہ بنانے کے صدر جوزف عون کے بیان سے دونوں ملک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں ایران کے کردار سے متعلق صدر جوزف عون کے الزامات کو مسترد کردیا۔
انھوں نے کہا کہ لبنان صدر کے بیان سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے ان کے ملک کے بعض علاقوں پر ایران کا قبضہ ہو، لبنانی شہریوں کی بے دخلی کا ذمہ دار ایران ہو یا ملک میں جاری حملوں کے پیچھے بھی ایرن ہی کا ہاتھ ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب صدر! لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے بچائیں۔ لبنان کو درپیش خطرات کے اصل اسباب پر توجہ دی جانی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو دباؤ یا سودے بازی کے لیے استعمال کرنا چاہتا تو کسی معاہدے تک پہنچنے میں بہت پہلے کامیابی حاصل کی جا سکتی تھی۔
یاد رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران نے لبنان کو ایک سفارتی کارڈ کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے بھی لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ لبنانی صدر جوز عون اپنے ساتھ کھڑے افراد کو بیچ دیتے ہیں اور جو ان کے خلاف کھڑے ہیں انھیں خریدلیتے ہیں۔ اپنے حمایتیوں کو چھوڑ دیا اور اپنا گلا گھوٹنے والوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔