سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک انقلابی ویکسین ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو مستقبل میں وائرسوں کے پورے خاندان کے خلاف حتیٰ کہ ان کی نئی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف بھی ایک ہی انجیکشن سے دیرپا تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ پیشرفت مستقبل کی وباؤں کو جنم لینے سے پہلے ہی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے نہ صرف لاکھوں جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ دنیا کو لاک ڈاؤن جیسے سخت اقدامات کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔
اس ٹیکنالوجی کی بنیاد ایک ’سپر اینٹی جن‘ پر رکھی گئی ہے جسے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے تیار کیا گیا۔ یہ نظام ماضی اور حال کی وباؤں کا باریک بینی سے تجزیہ کرکے وائرسوں کے ان بنیادی اجزا کی نشاندہی کرتا ہے جو ان کی بقا اور پھیلاؤ کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
اس طریقہ کار سے تیار کی گئی کورونا ویکسین کے دنیا کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے میں اس کی حفاظت اور محفوظ استعمال ثابت ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ فیز ٹو ٹرائل میں 200 سے زائد رضاکاروں کو شامل کیا جائے گا۔
ماہرین نے اس پیش رفت کو موجودہ نظام کے مقابلے میں ’طبی دنیا میں ایک بڑی فکری تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ویکسین سازی کا نظام بیماریوں کے پھیلنے کے بعد ردِعمل دیتا ہے اور تیزی سے بدلتے وائرسوں کا پیچھا کرنے میں اکثر ناکام رہتا ہے، جبکہ یہ نئی حکمتِ عملی بیماری کے ظہور سے پہلے ہی اس کے خلاف تیاری کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج اور بایوٹیک کمپنی DIOSynVax کی تیار کردہ یونیورسل ساربیکو کورونا ویکسین کورونا وائرس کے پورے خاندان میں مشترک پائے جانے والے جینیاتی خواص کو یکجا کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے دنیا بھر سے دستیاب تمام جینیاتی ترتیب (جینیٹک سیکیوئنس) کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تاکہ ایسی ویکسین تیار کی جا سکے جو صرف ایک وائرس نہیں بلکہ اس کے متعدد قریبی اور مستقبل میں سامنے آنے والے روپوں کے خلاف بھی مؤثر ہو۔