تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو علاج کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق سول ہسپتال کے جنرل سرجری وارڈ کے لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا، تیزاب گردی کے واقعے میں ڈاکٹر ماہ نور اور وارڈ بوائے عبدالرزاق زخمی ہوگئے، ہلاک ملزم ہمایوں شاہ کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ہلاک ملزم کا موبائل فون فرانزک کے لئے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ فرانزک شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
حکومتِ بلوچستان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور کو علاج و معالجے کے لئے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی صحت سے متعلق صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اتوار کو اپنے دورہ کراچی میں نجی اسپتال میں تیزاب گردی کا شکار زیر علاج خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی عیادت کی۔ انہوں نے ڈاکٹرز سے ان کے علاج کے حوالے سے معلومات لیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاکہ میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اس واقعے کا درندہ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، والدین اور ڈاکٹر ماہ نور سے مل کر میرا دل بڑا ہوا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور بلوچستان کی بہادر بیٹی ہے وہ درد میں ہے لیکن اس کے حوصلے بلند ہیں۔ ڈاکٹر نے ہمیں تسلی دی ہے کہ ان کا علاج اچھے انداز میں ہو رہا ہے اگر ضرورت ہوئی تو دنیا کے کسی بھی کونے میں انہیں فیس سرجری کے لیے لے کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے حوالے سے ابھی فوری میڈیا پر کوئی بیان نہیں دیا جاسکتا مجرم ایک وحشی تھا، ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج ہمارے گھر کا معاملہ ہے ہم وہاں واپسی جاکر اسے ٹھیک کر لیں گے۔
دری اثنا صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ سیکرٹری صحت بلوچستان، ایم ایس اور سکیورٹی انچارج سول اسپتال کو برطرف کیا جائے۔
ڈاکٹر حئی بلوچ کا کہنا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعے کے خلاف ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ جاری رہے گا، واقعے کے خلاف آج سہ پہر12بجے سول ہسپتال کوئٹہ سے پر امن ریلی نکالی جائے گی۔