سوات کے علاقے شکردرہ میں میں گجر برداری پر حملے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق افضل گجر پر حملے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے جبکہ مظاہرین نے لاشوں کو سڑک پر رکھا ہوا ہے۔ مٹہ مینگورہ روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلیے بند کردیا گیا ہے۔
مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ رات حملے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
سوات کی تحصیل مٹہ علاقہ شکردرہ میں گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ معروف ٹرانسپورٹر افضل خان گجر کی گاڑی کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا گیا جس میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حملے کے وقت افضل خان گجر اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے، شکردرہ کے مقام پر نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر راکٹ فائر کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے دوران افضل خان گجر زخمی ہوگئے.
تاہم انکا جواں سال بیٹا بہرام خان گجر اور بھتیجا موقع پر جاں بحق ہوگیا اور ایک سیکیورٹی گارڈ گاڑی میں آگ لگنے کے باعث جل کر جاں بحق ہوا۔
زخمی ہونے کے باوجود افضل خان گجر نے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی۔ حملہ آور فرار ہوگئے جبکہ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔