انمول پنکی کی وائس ریکارڈنگ کیلئے پولیس کی درخواست پر وکیل سرکار کو نوٹس جاری

ملزمہ نے وائس ریکارڈنگز میں اپنی آواز ہونے سے انکار کیا، پنجاب لیبارٹری سے فرانزک کرایا جائے، پولیس


ویب ڈیسک June 08, 2026

جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات سمیت دیگر مقدمات میں ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ کیلئے پولیس کی درخواست پر وکیل سرکار کو نوٹس جاری کردیے۔

پولیس نے ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد پنجاب بھینجے کےلیے عدالت سے رجوع کیا تھا، پولیس نے ڈیجیٹل شواہد پنجاب لیبارٹری بھیجنے کے لئے درخواست دائر کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ملزمہ انمول پنکی کی جیل وائس ریکارڈنگ کرنے کی اجازت دی جائے، ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک پنجاب لیبارٹری سے کرانے کا حکم دیا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، تفتیش کے دوران ملزمہ نے ریکارڈنگ اور میسجز اس کے ہونے سے انکار کیا ہے، ملزمہ کہتی ہے کہ وائس میسجز اور ریکارڈنگ میں اس کی آواز نہیں ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد پنجاب لیبارٹری بھجوائے جائیں، تمام ڈیجیٹل شواہد کا پنجاب لیبارٹری سے فرانزک کرانے کا حکم دیا جائے، فرانزک رپورٹ سے ملزمہ کی آواز ہونے کی تصدیق ہو جائے گی۔

دوسری جانب منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے لاہور میں موجود ایک جعلی سیلری اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔  رپورٹ کے مطابق بینک میں جمع کرائے گئے کاغذات جعلی تھے، کوئی کمپنی موجود ہی نہیں ہے حیرت انگیز طور پر ایک عام آدمی جب بینک میں اکائونٹ کھلوانا چاہتا ہے تو اس سے بے انتہا سوال جواب اور دستاویزات مانگی جاتی ہیں مگر پنکی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا، اس کا اکاؤنٹ غیر ملکی بینک کی نیو گارڈن لاہور برانچ میں تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں اینٹی نارکوٹکس فورس میں درج مقدمہ نمبر 63/19 کی تفتیشی افسر سب انسپکٹر صوبیہ ارم نے یکم جولائی 2021کی اپنی رپورٹ میں یہ تحریر کیا تھا کہ پنکی کا لاہور کے علاقے چوبرجی میں ایک ملٹی نیشنل بینک میں سیلری اکائونٹ ہے جس میں اس کو ایک کمپنی کا ملازم ظاہر کیا گیا تھا، اس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی رہی اور جس وقت بینک نے اسٹیٹمنٹ دیا تو اس کے اکاؤنٹ میں 6 کڑور 39 لاکھ 88 ہزار 912 روپے کی ٹرانزیکشن موجود تھی اور ملزمہ مفرور قرار دی گئی تھی۔ 

جب تفتیشی افسر مذکورہ کمپنی کے ایڈریس 9/10 چھٹہ پلازہ، فرسٹ فلور، چوبرجی پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس نام کی کوئی کمپنی یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ بینک میں جمع کرائے گئے کاغذات جعلی تھے۔