اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی ایران کے میزائل حملوں سے بچنے کے لیے زیر زمین بنائے گئے بنکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔
یہ بات امریکی سفیر نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے خود بتائی۔ انھوں نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے دوران انہیں بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بنکر منتقل ہونا پڑا۔
امریکی سفیر نے مزید بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں کے آغاز سے ہی یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے جبکہ فضا میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
مائیک ہکابی نے کہا کہ اسرائیل میں اس وقت لوگ مسلسل خطرات کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں اور ہر نئے حملے کے ساتھ شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی بتایا کہ ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں فضائی حملے کے سائرن بار بار بجائے گئے جس کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی شہری بنکروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بیشتر میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے تاہم بعض علاقوں میں ملبہ گرنے اور محدود نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ تازہ حملے اسرائیلی فوج کی لبنان میں عوام اور حزب اللہ کے خلاف کی گئی عسکری کارروائیوں کا منہ توڑ جواب تھے۔
جس پر امریکی صدر نے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور پھر ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی بھی حملے کے وقت بھاگتے ہوئے بنکرز میں پناہ لینے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ یہ بنکرز اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ حملہ کا سائرن بجتے ہیں اس میں شہری پناہ لے لیں۔