فلک شبیر جیسے لوگوں کا دماغ کب خواتین کے کپڑوں سے نکلے گا، حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

لوگ دوسروں کی ذاتی زندگیوں اور لباس پر رائے دینے کے بجائے اپنے معاملات پر توجہ دیں، لیگی رہنما


ویب ڈیسک June 08, 2026

گلوکار فلک شبیر کی جانب سے عوامی مقامات پر مختصر لباس کے خلاف قانون سازی کی اپیل کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی بحث میں اب سیاسی شخصیات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے فلک شبیر کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض لوگوں کی توجہ اب بھی خواتین کے لباس سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی۔

حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ سمجھ نہیں آتی فلک شبیر جیسے افراد کا ذہن خواتین کے لباس سے کب نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ اپنی زندگیوں اور ذمہ داریوں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن پاکستان میں اکثر لوگ سوشل میڈیا پر آ کر خواتین کے لباس پر تبصرے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

لیگی رہنما نے اپنی پوسٹ میں استنبول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں خواتین کے لباس پر غیر ضروری بحث نہیں کی جاتی، جبکہ پاکستان میں اس قسم کے موضوعات کو بلاوجہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی سوچ اور رویے معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگ دوسروں کی ذاتی زندگیوں اور لباس پر رائے دینے کے بجائے اپنے معاملات پر توجہ دیں تو یہ معاشرے کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب فلک شبیر نے سوشل میڈیا پر مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں عوامی مقامات، بازاروں اور سڑکوں پر مختصر لباس پہننے والوں کے حوالے سے قانون متعارف کروایا جائے۔ گلوکار نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ بطور دو بیٹیوں کے والد وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ثقافتی اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

فلک شبیر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے ان کی حمایت کی، جبکہ بڑی تعداد نے اسے ذاتی آزادیوں اور خواتین کے انتخاب کے حق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس معاملے پر اداکارہ سارہ خان کی جانب سے بھی فلک شبیر کے مؤقف کے دفاع کے بعد بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔