آبنائے ہرمز کی بندش؛ یورپی یونین نے ایران کی اہم شخصیات اور اداروں کو بلیک لسٹ کردیا

پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں


ویب ڈیسک June 08, 2026
پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی اہم شخصیات اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور ویزا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے رکن ممالک کی رضامندی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کیا۔

یورپی یونین کے فیصلے کے تحت ان ایرانی افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

پابندیوں کی فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ بھی شامل ہیں ان کے علاوہ ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے نمائندے حمید حسینی کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے تاحال یورپی یونین کی نئی پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ خلیج میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

کایا کالاس نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت نازک جنگ بندیوں اور امن مذاکرات کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے تاہم ایران کے ڈرونز اب بھی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایران کی جانب سے سمندری راستوں کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے متعدد ایرانی شخصیات اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ یورپی وزرائے خارجہ نے واضح کیا ہے کہ سمندری نقل و حمل میں مداخلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

کایا کالاس نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب یورپی یونین اپنے نئے "فریڈم آف نیویگیشن سینکشنز رجیم" کے تحت پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد ان افراد، اداروں یا گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو عالمی بحری راستوں میں رکاوٹ یا خطرات پیدا کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس آبی گزرگاہ میں کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثرات مرتب کر رہی ہے۔