کراچی: گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی شوہر کے بہیمانہ تشدد سے جاں بحق

18 سالہ مصباح نے چار ماہ قبل گھر والوں کی مرضی کے بغیر ملیر کے رہائشی شہریار سے شادی کی تھی


اسٹاف رپورٹر June 09, 2026

کراچی:

سرجانی ٹاؤن میں گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کرنے والی لڑکی شوہر کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہوگئی۔ 18 سالہ مصباح نے تقریباً چار ماہ قبل گھر سے بھاگ کر ملیر کے رہائشی شہریار نامی شخص سے شادی کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیف المری گوٹھ زیتون فاؤنڈیشن کے قریب گھر میں لڑکی کی لاش کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی لڑکی کی شناخت 18 سالہ مصباح دختر محمد رمضان کے نام سے کی گئی، مقتولہ کی والدہ اور بھائی عثمان نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ 5 بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی جبکہ والد کا انتقال ہوچکا ہے۔

اہلخانہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل تک وہ نیو کراچی میں رہائش پذیر تھے جہاں ان کی بیٹی مصباح کو اسی علاقے کے رہائشی ایک لڑکے شہریار نے اپنی محبت کے جال میں پھنسالیا تھا، مصباح نے گزشتہ رمضان المبارک سے چند روز قبل شہریار کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلی تھی، شادی ہونے کے بعد وہ اپنے گھر آئی تو بیوہ ماں نے اسے معاف کرتے ہوئے گلے لگالیا۔

مصباح کی والدہ نے بتایا کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی اس کے شوہر نے اس پر تشدد شروع کردیا، کبھی رقم تو کبھی 125 موٹرسائیکل مانگتا تھا، انہیں ان کی بیٹی نے بتایا کہ اس کا شوہر بولتا ہے کہ وہ پولیس میں ہے اور اس نے اپنی پولیس یونیفارم پہنے ہوئے تصویر بھی دکھائی تھی تاہم وہ پورا پورا دن گھر پر پڑا رہتا تھا اور جب بھی تھوڑی دیر کے لیے گھر سے باہر جاتا تھا تو 10 سے 15 ہزار روپے لے آتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شہریار نے دن گزرنے کے ساتھ اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے تھے، ان کی بیٹی کو مارتا اور انہیں واٹس ایپ پر میسج کرتا کہ اگر کہیں شکایت کی تو تم لوگوں کو بھی گھر میں گھس کر مارونگا، تمھارے لڑکوں کو ننگا کر کے گولیاں ماردوں گا۔

 انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس شہریار کی وائس ریکارڈنگ بھی موجود ہے جس میں وہ گندی گندی گالیاں بھی دیتا تھا اور مارنے کی دھمکی بھی دیتا تھا، ایک دن شہریار چند افراد کے ہمراہ ان کے گھر میں گھس آیا تھا اور گالم گلوچ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

 مقتولہ کے بھائی عثمان نے بتایا کہ ان کی بہن نے ہم سے کہا تھا کہ وہ ملیر سٹی تھانے کے سامنے فلیٹ میں رہتی ہے، بہن نے بھائی کو کہا کہ ہمارے گھر کبھی نہیں آنا کیونکہ شہریار بہت ظالم آدمی ہے، اس نے مجھ سے پہلے بھی چار شادیاں ایسی ہی لڑکیوں سے کی ہیں جن کے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور انہیں لوٹنے کے بعد چھوڑ دیا۔

بھائی کے مطابق مصباح نے کہا تھا کہ میں تو اپنی غلطی سے پھنس گئی اب وہ تم لوگوں کو بھی پھنسا کر رقم لینا چاہتا ہے لہذا تم لوگ نادرا میں جا کر مجھ سے لاتعلقی کا بول دو، عثمان نے بتایا کہ بہن کے کہنے پر ہم نے اپنی بہن سے لاتعلقی کر لی تھی، دو روز قبل مصباح کے علاقے سے فیمس چھولے والے کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ ان کی بیٹی شدید زخمی حالت میں اس کے ٹھیلے کے نیچے سے ملی ہے لہذا تم لوگ آکر اسے لے جاؤ۔

عثمان نے بتایا کہ والدہ شہریار سے اتنی ڈری ہوئی تھیں کہ انہوں نے ملیر جانے سے انکار کردیا اور چھولے والے سے کہا کہ آپ اسے چھوڑ جاؤ جو بھی کرایہ لگے گا وہ دے دینگی جس پر چھولے والا مصباح کو سرجانی ٹاؤن کے ڈی اے کے قریب چھوڑ گیا۔

 انہوں نے بتایا کہ وہ مصباح کو لے کر سرجانی ٹاؤن تھانے گئیں تاہم پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور کہا کہ یہ ملیر کا کیس ہے وہیں جاؤ، تھانے سے نکل کر وہ خدا کی بستی میں واقع ایک نجی اسپتال گئیں جہاں ڈاکٹر نے اسے دوائی دی۔

عثمان نے بتایا کہ جب انکی بہن کے سر پر لگا زخم صاف کیا گیا تو اس میں سے چائے کی پتی نکلی جس کے بارے میں مصباح نے اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ شہریار نے اس کے سر پر پیچ کس مارا اور پھر اس کے زخم میں نمک ڈال کر چائے کی پتی بھر دی تھی جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر بھی تشدد کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پیر کی شب ایک بجے مصباح واش روم گئی جہاں وہ گر گئی اور جب اسے اٹھا کر کمرے میں لائے تو اس میں جان نہیں تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی ایک بجے سے پہلے ہی دم توڑ گئی تھی مگر اس کی ماں نے کسی کو نہیں بتایا، پولیس کو کسی نے 15 پر اطلاع دی جب پولیس وہاں پہنچی تو لڑکی مردہ حالت میں موجود تھی، لڑکی کی ماں لاش کو اسپتال لے جانے سے بھی روک رہی تھی۔

ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد لاش اسپتال لانے میں تو کامیاب ہوگئے تاہم اب لڑکی کی ماں نہ تو پوسٹ مارٹم ہونے دے رہی ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کی قانونی کارروائی کرانا چاہتی ہے، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی۔ 

پولیس کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی ویسٹ کی ہدایت کے بعد مقدمہ درج کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔