وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ

نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے، پٹرولیم مصنوعات پر ایف ای ڈی عائد کرنے کی تجویز


ارشاد انصاری June 09, 2026

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے جبکہ بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم کرکے اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام اور ڈیجیٹل انضمام، پیداوار کی نگرانی اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اس بارے میں ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے حال ہی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں ملک بھر میں غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں صوبوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے اوراس سلسلے میں 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس چھوٹ کو آئندہ بجٹ میں توسیع نہ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس بل 2026ء میں حکومت کی جانب سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات اور سخت نفاذی پالیسیوں کے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جن کا مقصد محصولات میں نمایاں اضافہ اور ٹیکس نظام کو مزید موٴثر بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدامات میں ناپتھا سمیت بعض پیٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام اور ڈیجیٹل انضمام، پیداوار کی نگرانی اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے گریز کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت سزائیں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع ایک ہزار ارب روپے کے اضافی محصولات میں سے تقریباً نصف رقم انفورسمنٹ اقدامات جبکہ باقی نصف ٹیکس پالیسیوں کے ذریعے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ۔ ناپتھا پر ایف ای ڈی کا نفاذ مالی سال 2026-27 کے اہم ترین محصولات بڑھانے والے اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

فنانس بل 2026ء کے تحت اندرونی محصولات سے متعلق قوانین میں ترامیم کرکے یکم جولائی 2026ء سے ایف بی آر کو مکمل طور پر فیس لیس ادارے کی شکل دینے کی تجویز ہے اس مقصد کے لیے ٹیکس دہندگان کا ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے مکمل انضمام، خصوصاً پیداوار کی نگرانی کے نظام سے منسلک ہونا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جو ٹیکس دہندگان یکم جولائی 2026ء کے بعد ڈیجیٹل انضمام، پیداوار کی نگرانی یا پی او ایس نظام پر عمل درآمد میں ناکام رہیں گے ان کے لیے غیر معمولی جرمانوں اور سخت قانونی کارروائیوں کی تجاویز زیر غور ہیں حکومت اکتوبر 2026 سے فیس لیس ایف بی آر سینٹر برائے ان لینڈ ریونیوکے باضابطہ آغاز کی تیاری کر رہی ہے جس کے لیے بڑے صنعتی شعبوں میں فوری طور پر پیداوار کی نگرانی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے میں فیس لیس ایف بی آر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس نظام کی کامیابی ڈیجیٹل انضمام کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی لیے غیر تعمیل کرنے والوں کے خلاف سخت سزاوٴں کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ مالیاتی بل میں سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے، بعض نئی اشیا کو پرنٹڈ ریٹیل پرائس کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں لانے اور سیلز ٹیکس قانون میں ترامیم کے ذریعے غیر قانونی مصنوعات خصوصاً سگریٹ کی فروخت کے خلاف کارروائیوں کو مزید سخت بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں تاہم ان تمام اقدامات کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے مشروط ہوگی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یکم جولائی سے متعدد صارفین کی اشیا اور گھریلو برقی آلات، جن میں ریفریجریٹرز، ایئر کنڈیشنرز اور واشنگ مشینیں شامل ہیں ان کی پیکنگ پر ریٹیل قیمت اور قابل اطلاق 18 فیصد سیلز ٹیکس واضح طور پر درج کرنا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے

فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کی بیشتر اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا بنیادی ہدف غیر رجسٹرڈ اور غیر تعمیل کرنے والے شعبوں کے خلاف موٴثر کارروائی، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔