جنسی ہراسانی پر عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان معطل

عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر پر خاتون اہلکار نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے


ویب ڈیسک June 10, 2026
عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر پر خاتون اہلکار نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو جنسی بدسلوکی کے سنگین الزامات کی تحقیقات کے بعد معطل کر دیا گیا جبکہ عدالت کے انتظامی ادارے نے ان کی برطرفی کی سفارش بھی کی ہے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آفس کی خاتون اہلکار نے الزام عائد کیا تھا کہ کریم خان نے متعدد مواقع پر ان کے ساتھ غیر رضامندانہ جسمانی قربت اختیار کرنے کی کوشش کی۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک غیر ملکی دورے کے دوران انھوں نے خاتون کو ہوٹل کے کمرے میں اپنے ساتھ آرام کرنے کے لیے کہا اور نامناسب جسمانی رابطہ کیا۔

اسی طرح کریم خان پر خاتون کی جانب سے متعدد بار دفتر کا دروازہ بند کرکے ناپسندیدہ رویہ اختیار کرنے اور نجی تعطیلات پر ساتھ چلنے کی درخواست جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

کریم خان گزشتہ سال مئی سے تحقیقات مکمل ہونے تک رضاکارانہ رخصت پر تھے اور اس دوران وہ پراسیکیوٹر کے فرائض انجام نہیں دے رہے تھے۔

وہ آئی سی سی کی تاریخ کے پہلے چیف پراسیکیوٹر ہیں جنہیں عدالت کے نگران ادارے نے باضابطہ طور پر معطل کیا ہے۔

آئی سی سی کے نگران ادارے کی جانب سے تقریباً 18 ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کریم خان نے ایک خاتون معاون کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور سنگین بدانتظامی کے مرتکب ہوئے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تحقیقات کے بعد عدالت کے ایگزیکٹو بیورو نے سفارش کی ہے کہ کریم خان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس کا حتمی فیصلہ آئی سی سی کے 125 رکن ممالک ووٹنگ کے ذریعے ایک خصوصی اجلاس میں کریں گے۔

برطرفی کے لیے خفیہ رائے شماری میں کم از کم 63 ممالک کی حمایت درکار ہوگی۔ یہ معاملہ رکن ممالک کی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا ہے تاہم فیصلے کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔

دوسری جانب کریم خان کے وکلا نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی، غیر منصفانہ اور شواہد سے عاری قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کریم خان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ کریم خان ہی وہ پراسیکیوٹر تھے جنحوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسی طرح انھوں نے حماس کے تین رہنماؤں کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیے تھے جنہیں بعد میں اسرائیلی کارروائیوں میں شہید کر دیا گیا تھا۔