اسلام آباد:
جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست، افواج پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف تشدد اور اسلحہ برداری کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل بندوق یا زور زبردستی میں نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں ہے۔ ان کے مطابق پرامن سیاسی عمل ہی عوامی حقوق کے حصول کا درست اور مؤثر راستہ ہے۔
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ جمعیت اہلحدیث پاکستان ہر قسم کی مسلح سیاست اور پرتشدد طرزِ عمل کی مذمت کرتی ہے جبکہ اشتعال انگیزی اور جتھہ بندی معاشرے میں انتشار اور بے یقینی کو فروغ دیتی ہے۔
انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری اور تدبر کا مظاہرہ کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔
ان کے مطابق آزاد کشمیر کے مسائل کا حل تعمیری مکالمے اور آئینی دائرہ کار میں ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے مسئلے کی بنیاد حقِ خودارادیت اور عوامی رائے پر ہے تاہم پرتشدد اور اشتعال انگیز اقدامات اس مقصد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے واضح کیا کہ پاکستان مخالف نعروں یا جذبات کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی جبکہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ تاریخی، جذباتی اور قربانیوں پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی، استحکام اور یکجہتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اختلافِ رائے کا حق موجود ہے لیکن اسے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان کے استحکام اور مضبوطی کے لیے اتحاد، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے، جبکہ قومی مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی قابلِ قبول نہیں۔