انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر گَس ایٹکنسن کو اگلے ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے خلاف ٹیم کے کرفیو قوانین توڑنے کی تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لارڈز میں پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی فتح کا جشن منانے کے بعد بین اسٹوکس اور گَس ایٹکنسن لندن کے مشہور نائٹ کلب میں پائے گئے تھے، جو ٹیم کے مقررہ ضوابط کے خلاف تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آدھی رات کے کرفیو کا قانون متعارف کرانے والی انتظامیہ میں خود کپتان بین اسٹوکس بھی شامل تھے، جس کی وجہ سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔
دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ کریں گے۔
اس معاملے کی تحقیقات صرف انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے ہی نہیں بلکہ بلکہ آزاد ادارے کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے بھی کی جا رہی ہیں۔
دوسرے ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کے اعلان کے وقت یہ واضح نہیں تھا کہ بین اسٹوکس نے اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے بدھ کے روز اپنے مشیروں کے ساتھ ہنگامی مشاورت کی تھی۔