عوام کا کوئی قصور نہیں

پنجاب میں (ن) لیگ ضمنی الیکشن میں ضرور جیت رہی ہے لیکن ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔


[email protected]

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نو سال قبل کے اپنے سوال کہ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ میں جی بی الیکشن مہم کے دوران تقریر میں ترمیم کرکے عوام کو بھی کچھ قصوروار قرار دیتے ہوئے عوام سے بھی پوچھا ہے کہ یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا تھا اور اقتدار سے مجھے کیوں نکالنے دیا تھا۔ میاں نواز شریف نے یہ شکوہ یا سوال عوام سے کیا ہے جو کسی پارٹی کے امیدواروں ووٹ دیتے ہیں، اس کے ذریعے وہ کسی کو اقتدار میں دلاتے ہیں اور ارکان اسمبلی کو اختیار دیتے کہ وہ اکثریت سے وزیراعظم منتخب کرلیں۔

لیکن ہوتا کیا، جب کوئی جماعت الیکشن ہار جاتی ہے تو وہ کبھی آر ٹی ایس بیٹھ جانے کی بات کرتی ہے اور کبھی فارم 47 فارم 45 کا رونا شروع ہوجاتاہے۔ یہ ہارے ہوئے یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ رات کو وہ جیت رہے تھے لیکن صبح پتہ چلا کہ وہ ہار گئے ہیں، مگر ان کے اس پراپیگنڈا کے باوجود عوام خاموش ہو کر اپنے دیگر اہم کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، انھیں صرف الیکشن والے دن سرکاری چھٹی مل چکی ہوتی ہے۔

شام کو ووٹوں کے ڈبے کھلنے سے گنتی کا عمل مکمل ہونے تک کے سرکاری مراحل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ساری دلچسپی الیکشن لڑنے والوں کی ہوتی ہے جو وہاں موجود ہوتے ہیں۔ جیتنے والے الیکشن کو منصفانہ اور ہارنے والے الیکشن کو سخت دھاندلی زدہ قرار دیتے رہتے ہیں جس کا سرکاری جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، الیکشن ہارنے والے یہی شور مچاتے آئے ہیں۔

2013 میں پی ٹی آئی نے چار حلقوں سمیت دھاندلی کا شور مچایا تھا اور بعد میں اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا تھا جس کے مطالبے پر چار حلقوں کے ضمنی الیکشن میں بھی پی ٹی آئی ہاری تھی۔ 2018 میں جب آر ٹی ایس رات کے اندھیرے میں بٹھا کر جب پی ٹی آئی کو جتوا کر اقتدار دلایا گیا تو اس نے الیکشن کو منصفانہ اور ہارنے والوں نے دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ 2024 میں جب پی ٹی آئی کو وفاق اور پنجاب میں اقتدار نہ ملا تو اس نے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا مگر کے پی میں جہاں پی ٹی آئی جیتی تھی وہاں وہ خاموش ومطمئن تھی۔

یہ سلسلہ عشروں سے چل رہا ہے۔ عوام کا کام صرف ووٹ دے کر اپنے نمائندے منتخب کرنا ہے، کسی کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر گھیراؤ جلاؤ کرنا نہیں ہوتا۔ حکومتی مظالم، مہنگائی وبے روزگاری پر خاموش رہ کر حکومت سازی کا تماشا دیکھنا ہوتا ہے۔ عوام کو پتا ہوتا ہے کہ نئے حکمرانوں نے آ کر سابق حکمرانوں کو ملک کے مسائل کو معاشی تباہی کا نام دے کر سابق حکمرانوں کو اس کا ذمے دار ٹھہرانا ہے اور اسی جواز پر عوام کی مشکلات مزید بڑھانی ہیں۔

یہ سلسلہ نام نہاد جمہوری حکومتوں میں ہی نہیں،آمرانہ حکومتوں میں بھی ہوتا آیا ہے۔ اس لیے عوام اس سارے عمل سے الگ ہوجاتے ہیں، اب بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، کئی اور لوگ بھی جیل میں ہیں، عوام ان کے لیے سڑکوں پر آکر گھیراؤ جلاؤ کیوں کریں؟ انھیں پتہ ہے کہ وہ کس طرح برسراقتدار آئے تھے اور اپنے دور حکومت میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں، اس لیے عوام کو ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ،البتہ الیکشن ہوں گے تواپنی مرضی سے جسے چاہیں گے ووٹ ڈال دیں گے۔

پی ڈی ایم حکومت جس کے وزیر اعظم مسلم لیگ (ن) کے میاں شہباز شریف تھے، نے معاشی تباہی کا ذمے دار پی ٹی آئی کی سابق حکومت کو قرار دیا تھا اور پی ٹی آئی کی حکومت تقریباً چوالیس ماہ رہی تھی جب کہ موجود حکومت اپنے دونوں ادوار میں چار سال مکمل کر چکی ہے مگر معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے، آئی ایم ایف کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ عوام کی مشکلات بڑھی ہیں۔

مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکس مزید بڑھایا ہے ، دوسری طرف وزیراعظم اور وزراء نے غیرملکی دوروں کا ریکارڈ قائم کیا کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جارہا اور بار بار آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کو اپنا فرض اولین کیوں بنا رکھا ہے۔ حکومتی اخراجات میں کمی کیوں نہیں لائی جاسکی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ، بیورو کریسی اور ججز کو مزید نوازنے اور ان کی مراعات بے پناہ بڑھانے کی پالیسی کیوں اختیار رکھی گئی ہے۔

پنجاب میں (ن) لیگ ضمنی الیکشن میں ضرور جیت رہی ہے لیکن ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔جب 3 سال بعد عام انتخابات کا بگل بجے گاتو اس وقت ایک بار پھر عوام باہر نکلے گے ۔ اس وقت ان کے سب سے بڑے ناقد موجودہ حکومت کے اتحادی بلاول بھٹو ہوں گے جو گلگت کی انتخابی مہم میں وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔

 عوام اپنا کام اس موقع پر ضرور کرے گی، ووٹ کے ذریعے، وہ کسی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے، کسی کو رہا کرانے کے لیے تیار نہیں ہیں، انھیں صرف یہ فکر ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے پالیں کیونکہ وہ ٹیکس دے دے کر حکمرانوں اور بیوروکریسی کو پال رہے ہیں۔ انھیںکسی سابق حکمران کی جلاوطنی، مقدمات، سزاؤں اور قید سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، اس لیے کسی بھی سیاستدان یا حکمران کا عوام سے کوئی شکوہ بنتا ہی نہیں۔