پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے خوارج اور افغانستان کے درمیان روابط کے مزید شواہد منظر عام پر آگئے

مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں  2 جہنم واصل ہونے والے خوارجیوں میں ایک افغانی خوارجی بھی شامل تھا


ویب ڈیسک June 11, 2026

پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط* کے مزید شواہد ایک بار پھر منظر عام پر آگئے جب کہ مہمند کے علاقے شیخ بانڈہ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں  2 جہنم واصل ہونے والے خوارجیوں میں ایک افغانی خوارجی بھی شامل تھا۔

سیکیورٹی فورسز کی مہمند کے پہاڑی علاقے *شیخ بانڈہ* میں کامیاب کارروائی کے دوران جہنم واصل ہونے والا ایک خارجی افغان شہری نکلا، جہنم واصل ہونے والے  خوارجی کے پاس سے *افغان امارتی شناختی کارڈ، غیر ملکی کرنسی ، جدید اسلحہ اور خود کش جیکٹ بھی  برآمد ہوئی۔

جہنم واصل افغان خوارجی کے افغان اماراتی شناختی کارڈ پر اس کا نام  *عمر بیلال*  واضح طور پر درج ہے، جہنم واصل ہونے والا افغان خارجی عمر بیلال افغانستان کے صوبہ خوست کا رہنے والا تھا، سیکیورٹی فورسز* نے یہ کامیاب کارروائی 4 جون 2026 کو کی جس کے دوران دو خوارجیوں کو جہنم واصل کیا۔  

*دفاعی ماہرین کے مطابق*  شناخت ہونے والا افغان خوارجی ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج اور افغان  طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ پاکستان کا امن تباہ  کرنا چاہتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان بارہا عالمی سطح پر دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین کے استعمال کے شواہد پیش کر چکا ہے،  پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں۔