کسی معاہدے میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور منجمد اثاثوں سے دستبردار نہیں ہوں گے؛ایران

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کیساتھ معاہدے کا مسودہ طے پا گیا ہے


ویب ڈیسک June 12, 2026
صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بارے میں بتایا ہے کہ کسی صورت آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اپنے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی جلد بحالی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام امریکا کے حوالے کرنے کی کوئی شرط قبول نہیں کرنا پڑے گی۔

مقامی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ معاہدے کے موجودہ مسودے میں ایران سے آبنائے ہرمز کا انتظام ترک کرنے یا جنگ سے قبل کی صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نکات اس معاہدے کے وسیع خدوخال کا حصہ ہیں جنھیں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس دوران صرف محدود تعداد میں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے اور یہ شرط عائد کی کہ تمام جہاز ایرانی مسلح افواج سے پیشگی اجازت حاصل کریں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ قریب ہے اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری اور مکمل طور پر عالمی جہاز رانی کے لیے کھول دی جائے گی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے مسودے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کیے جائیں اور جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

مہر نیوز کے مطابق ایران نے حتمی مذاکرات کے آغاز کے لیے چند اہم شرائط بھی رکھی ہیں، جن میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کا کم از کم نصف حصہ جاری کیا جائے۔

علاوہ ازیں ایرانی تیل پر عائد پابندیاں معطل کی جائیں۔ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ ان شرائط کی تکمیل سے پہلے حتمی مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔

مہر نیوز ایجنسی نے ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

ایجنسی نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے والے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ 60 دن کے اندر 24 ارب ڈالر ایران کو فراہم کیے جائیں گے۔ اس رقم کا نصف حصہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے قبل ایران کے لیے دستیاب ہوگا۔

تاہم امریکا پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی ایرانی فنڈز کی رہائی کا انحصار ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد اور مطلوبہ رعایتوں پر ہوگا۔

معاہدے میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکا یورینیم افزودگی کی صلاحیت ترک کرے اور اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرونِ ملک منتقل کرے۔

تاہم ارنا کے مطابق ایران صرف اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وہ بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کرے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کا حق ایران کے لیے ناقابلِ مذاکرات اصول ہے۔ افزودہ یورینیم کے ذخائر برقرار رکھنے کا مطالبہ حتمی معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔