تھائی شہزادی کا 3 سال کوما میں رہنے کے بعد انتقال؛ 15 روزہ سوگ کا اعلان

47 سالہ شہزادی عوام میں نہایت مقبول تھیں اور انھیں اقوام متحدہ نے خیرسگالی سفیر بھی مقرر کیا تھا


ویب ڈیسک June 12, 2026
تھائی لینڈ کی عوام میں نہایت مقبول شہزادی تین سال کوما میں تھیں اور مقامی اسپتال میں زیر علاج تھیں

تھائی لینڈ کی شہزادی 47 سالہ باجرکیتیابھا 3 سال سے زائد عرصہ کومہ میں رہنے کے بعد انتقال کر گئیں جس کے باعث ملک بھر میں 15 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا واجیرالونگکورن کی بڑی صاحبزادی اور ملک کی معروف سماجی و قانونی شخصیت باجر کیتیابھا نریندر دیبیاوتی دسمبر 2022 سے کومے میں تھیں اور بینکاک کے اسپتال میں زیرِعلاج تھیں۔

تھائی شاہی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادی کا انتقال 11 جون کی شام بینکاک کے کنگ چولالونگ کورن میموریل اسپتال میں ہوا جہاں انہیں دل کی پیچیدہ بیماری کے باعث بے ہوش ہونے کے بعد داخل کیا گیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں ان کی صحت مزید بگڑ گئی تھی اور انہیں آنتوں کے انفیکشن، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور خون جمنے کے مسائل کا سامنا تھا۔ ڈاکٹر کی ماہر ٹیم ان کا علاج کر رہی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی کی آخری رسومات شاہی روایات کے مطابق اعلیٰ ترین اعزازات کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ ان کے جسدِ خاکی کو گرینڈ پیلس میں رکھا جائے گا جبکہ ملک بھر میں 15 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

شہزادی باجرکیتیابھا کو تھائی عوام محبت سے "پرنسس پا" بھی کہتے تھے۔ وہ صرف شاہی خاندان کی رکن نہیں بلکہ ایک ممتاز قانون دان، سفارت کار اور سماجی کارکن ہونے کی حیثیت سے خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود اور ان کی بحالی کے لیے بھرپور کام کیا۔

انھوں نے "کملانگ جائی" مہم بھی چلائی تھی جس نے جیلوں میں قید خواتین اور رہائی کے بعد ان کی سماجی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں خواتین قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک کے لیے اقوام متحدہ نے 2010 میں معروف "بینکاک رولز" منظور کیے تھے۔

شہزادی نے امریکا کی معروف کورنیل یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تھائی پراسیکیوشن سروس میں خدمات انجام دیں۔ وہ آسٹریا، سلووینیا اور سلوواکیہ میں تھائی لینڈ کی سفیر بھی رہیں۔

علاوہ ازیں ان کی اعلیٰ سماجی اور معاشرتی رویے کے باعث 2017 میں انھیں جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے اقوام متحدہ کا خیرسگالی سفیر بھی مقرر کیا گیا تھا۔

تھائی وزیرِاعظم نے بھی شہزادی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تھائی لینڈ کا فخر قرار دیا اور کہا کہ شہزادی نے اپنی زندگی انصاف، مساوات اور ہمدردی پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔